اندرونی دشمن تراشی سے اجتناب کیا، داخلی دشمن تراشی سے بھی بچنا ہوگا
لاہور(نیوزڈیسک) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم تکفیری یلغار، دہشت گردی کے طوفان، اہل تشیع پر دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کے لئے وجود میں آئی تھی، ہم نے عوامی جدوجہد کے ذریعے اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدل کر دشمن کو ناکام بنانے کی اسٹرٹیجی کو اپنایا، جس میں مختلف ٹیکنیک اور ٹیکٹکس کو اختیارکیا جس کے نتیجے میں دشمن مکمل طور پر ناکام ہوا، انہوں نے کہا کہ حکمت عملی کے تحت رائے عامہ کو ساتھ ملانے کے لئے، عظیم عوامی اجتماعات، مظاہرے، لانگ مارچ، دھرنے دیئے گئے، شیعہ سنی وحدت کیلئے اقدامات کیے گئے، اہل تشیع میں موجود اختلافات میں شدت پیدا نہ ہونے دی گئی، اہل تشیع تنظیموں اور اداروں سے نہ الجھنے کی پالیسی اپنائی گئی، ہوئے کامیابی کی صورت میں دیگر اہل تشیع تنظیموں اور اداروں کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا گیا، اہل تشیع کے تمام طبقات کو میدان میں لانے کے طریقہ کار پر عمل کیا گیا، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے مخلص دوست اور ذمہ دار پہلے دن ہی سے دشمن کی درست شناخت کی وجہ سے اہل تشیع کے اندر، داخلی طور پر دشمن تراشی سے اجتناب کرتے چلے آئے ہیں اور دشمن کے اس خطرناک منصوبے کو ناکام بناتے آئے ہیں۔ اب بھی ہمیں داخلی دشمن تراشی سے بچنا ہے۔


































