
تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں بظاہر واقعات الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے پیچھے موجود تزویراتی منطق ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ 18 اگست 2026ء کو اسرائیل نے شمال مغربی شام کے ”ابوالضہور ائیر بیس“ پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ اس کا تعلق محض شام کی داخلی صورتِ حال سے نہیں بلکہ ترکی کے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ سے بھی جوڑا گیا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ شام اس ’’سکیورٹی اسٹیٹس کو‘‘ کی خلاف ورزی کے قریب تھا جس کے تحت ترکی وہاں فوجی موجودگی بڑھا سکتا تھا۔ دوسری طرف ترکی نے اسرائیلی حملے کو شام کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے خلاف قرار دیا۔
یہ واقعہ ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے۔ سوال یہ کہ اگر کوئی مسلمان ملک اسرائیل سے مکمل جنگ نہیں چاہتا، اگر وہ امریکہ کا اتحادی ہے، اگر اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی یا معاشی روابط رہے ہیں اور اگر وہ اسرائیل کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کرتا ہے، تو کیا اسرائیل اسے محفوظ رہنے کی ضمانت دیتا ہے؟ شام کا موجودہ واقعہ اس سوال کا جواب ایک بار پھر نفی میں دیتا ہے۔ یہاں ایران عراق جنگ کے زمانے کو آج کے تناظر میں دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ صدام حسین بھی حقیقت میں اسرائیل کے مفاد میں ہی کام کر رہا تھا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت لبنان کی خانہ جنگی میں اس کی اسرائیل کی حمایت یافتہ فورس” ایس ایل اے“ کی مدد کرنا ہے، جو اس وقت حزب اللہ کے خلاف لڑ رہی تھی۔ اگر صدام حسین واقعی اسرائیل مخالف ہوتا تو وہ خطے میں ابھرنے والے اسرائیل مخالف ایران کے خلاف کبھی جارحیت نہ کرتا اور پھر 7 جون 1981ء آیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے بغداد کے قریب ”اوسیرک ایٹمی ری ایکٹر“ پر حملہ کرکے اسے تباہ کر دیا۔
یہ حملہ ایران عراق جنگ کے دوران ہوا۔ ایسے میں جبکہ اس وقت عراق خود جنگ میں مصروف تھا۔ اسرائیل نے یہ کارروائی اپنے اس اصول کے تحت کی کہ وہ خطے کے کسی مسلم ملک کو ایسی صلاحیت حاصل نہیں کرنے دے گا جسے وہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتا ہو۔ یہاں تمام مسلم ممالک کے لیے ایک سبق ہے جسے وہ اکثر بھلا دیتے ہیں اور جب امتحان کا وقت آتا ہے تو وہ بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے یاد رکھنے والا وہ سبق یہ ہے کہ ریاستیں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتیں، ان کے مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ اور اسرائیلی تزویراتی سوچ میں ’’فائدہ مند‘‘ ملک بھی اس وقت خطرہ بن سکتا ہے جب اس کی طاقت، خودمختاری یا علاقائی اثر و رسوخ اسرائیلی مفادات سے ٹکرانے لگے۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت جیسی تیسی تھی، اسرائیل مخالف تھی۔ اس حکومت کے خاتمے کے بعد شام ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوا۔ احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت نے ایران سے فاصلہ اختیار کیا، شام کی حزب اللہ سے جو قربت تھی اسے ختم کرنے کی کوشش کی اور اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بچنے کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ احمد الشرع نے جولائی 2026ء میں اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے کی خواہش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ شام جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے۔ اور اب معاملہ اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ اسرائیل نے ایک ایسے شامی اڈے کو نشانہ بنایا جس پر ممکنہ ترک فوجی موجودگی اسرائیل کو قابلِ قبول نہیں تھی۔
یہاں سوال شام سے زیادہ ترکی کا ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اس کے سفارتی، عسکری اور اقتصادی نوعیت کے تعلقات ایک حقیقت ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترکی نے کھل کر کہا کہ یہ معاہدہ کسی بھی طور اسرائیل کے خلاف نہیں ہے۔لیکن چونکہ ترکی خطے میں ایک ایسی طاقت ہے جس کے پاس مضبوط فوج، جدید دفاعی صنعت، نیٹو کا تجربہ اور شام میں براہِ راست اثر و رسوخ موجود ہے۔ لہٰذا یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیلی اور ترک مفادات ایک دوسرے سے ٹکرانا شروع ہوتے ہیں۔
18 اگست کا اسرائیلی حملہ اسی کشمکش کا تازہ اظہار ہے۔ اسرائیل نے ترکی کے حوالے سے یہ نہیں دیکھا کہ ترکی اس کا دوست ہے یا دشمن، بلکہ اس نے یہ دیکھا کہ شام میں ترک عسکری موجودگی مستقبل میں اسرائیل کے لیے کتناخطرہ ہو سکتی ہے؟ یہی اصل نکتہ ہے۔ اب ہم مکہ کے دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اصولی طور پر یہ طے کیا کہ ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دفاعی تعاون کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ مگر صرف معاہدے پر دستخط کافی نہیں ہوتے۔
معاہدے کی اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے ارکان کسی حقیقی بحران میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور عسکری صلاحیت رکھتے ہوں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ معاہدے کے کچھ ہی عرصے بعد اسرائیل نے شام میں ایسی کارروائی کی جس کے اثرات براہِ راست ترکی کے علاقائی مفادات سے متعلق ہیں۔ ترکی نے اس حملے کی مذمت کی اور شام پر اسرائیلی حملوں کو خطے کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔ یہ صورتِ حال ایک بنیادی حقیقت سامنے لاتی ہے اور وہ یہ کہ دفاعی معاہدے صرف کاغذ پر نہیں بلکہ طاقت کے حقیقی توازن میں اپنا معنی رکھتے ہیں۔
شام کا حالیہ واقعہ کم از کم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے کسی دوسرے ملک کی خواہشات کا پابند نہیں۔ احمد الشرع اسرائیل سے سکیورٹی معاہدے کی بات کر رہا تھا، اس کے باوجود شام پر اسرائیلی حملے ختم نہیں ہوئے۔ ترکی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست جنگ نہیں چاہتا تھا۔ اس کے باوجود اسرائیل نے ایسا قدم اٹھایا جسے انقرہ نے اپنی سلامتی اور شام میں اپنے مفادات کے لیے خطرناک سمجھا۔ سعودی عرب خطے میں ایران کے مقابلے میں ایک متبادل علاقائی سکیورٹی نظام بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے باوجود اسرائیل نے اپنی علاقائی حکمت عملی کو سعودی مفادات سے ہم آہنگ نہیں سمجھا۔
ایسی صورت حال میں یہ سمجھ لینا کہ: ’’ہم اسرائیل کے خلاف نہیں ہیں، اس لیے اسرائیل ہمارے خلاف نہیں ہوگا‘‘ ایک خطرناک مفروضہ ہے۔ شام میں ایک ایسی حکومت بھی اسرائیل کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہ سکی جو ایران سے دوری اختیار کر رہی تھی اور اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی انتظام کی بات کر رہی تھی۔ شام پر اسرائیلی حملہ صرف شام کا مسئلہ نہیں۔ یہ ترکی کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔ یہ سعودی عرب کے لیے بھی ایک سوال ہے اور یہ پاکستان کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ پاکستان کے لیے سبق یہ کہ وہ کسی ایک طاقت کے کیمپ کا محض حصہ بننے کے بجائے اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھے۔
جہاں تک مسلم دنیا کا تعلق ہے تو اس کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ: ’’اسرائیل ہمیں دوست سمجھے گا یا دشمن؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ: ’’ہم اپنی سلامتی کے لیے اسرائیل، امریکہ یا کسی دوسری بیرونی طاقت کی ضرورت سے کب آزاد ہوں گے؟‘‘ جب تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کیا جاتا، مشرقِ وسطیٰ میں حکومتیں بدلتی رہیں گی، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہیں گے، معاہدے ہوتے رہیں گے، مگر طاقت کا اصل مرکز وہی رہے گا جو اپنی سلامتی کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔


































