Fri Oct 09, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

اسلام آباد: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا، قانون سازی اور عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام بنانے کی ہدایت کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست گزار نے اپنے وکلا محمد جلال حیدر اور یحییٰ فرید خواجہ ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی، جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات، سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسگی اور نقصان دہ مواد سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔
درخواست میں یورپی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے عمر کی تصدیق سے متعلق اقدامات کو تقابلی مثال کے طور پر پیش کیا گیا، آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے قانون کا حوالہ دیا گیا، جبکہ فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے والدین کی رضامندی سے متعلق قانون سازی کی مثال بھی دی گئی ہے۔
درخواست میں برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ 2023 کے تحت بچوں کے آن لائن تحفظ کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے نیوزی لینڈ اور سپین میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق مجوزہ قانون سازی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ درخواست میں وزارت آئی ٹی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، پی ٹی اے اور پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزار نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے خصوصی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری میکنزم قائم کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو عمر کی حد اور حفاظتی اقدامات سے مشروط کر رہے ہیں، لہٰذا پاکستان میں بھی بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular