
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت میں وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ اس وقت ایرانیوں کو مذاکرات میں واضح برتری حاصل ہے۔ ایسپر کے مطابق ایرانی قیادت اپنی موجودہ پوزیشن اور مذاکرات میں اپنے پاس موجود دباؤ کے ذرائع کے حوالے سے پُراعتماد ہو گئی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو وہ ایک اہم اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سابق امریکی وزیرِ دفاع نے امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کا بھی اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے کوشش کر رہی ہے، تاہم بعض جدید ہتھیاروں کی تیاری میں خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں واشنگٹن کے لیے اہم چیلنجز بن چکے ہیں۔


































