Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دینے پر پاکستان کا امریکا سے احتجاج

نئی دہلی : انڈیا میں امریکی سفیر سرگئی گور کے کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دینے پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے اور امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے ڈیمارش کیا گیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امریکی سفیر سرگئی گور کا بیان امریکا کے دیرینہ مؤقف اور بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ کشمیر سے متعلق حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔
یہ معاملہ امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے 19 اگست 2026 کو جموں و کشمیر کے دورے کے بعد سامنے آیا اور یہ ان کا بطور امریکی سفیر جموں و کشمیر کا پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے سری نگر میں بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور علاقے کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دیا۔ گور نے خطے کی سیکیورٹی صورت حال کے تناظر میں امریکی سفری ہدایات پر نظرثانی کا بھی عندیہ دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازع 1947 سے چلا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک علاقے کے مختلف حصوں پر انتظام رکھتے ہیں اور دونوں کا کشمیر پر اپنا الگ مؤقف ہے۔ پاکستان مسلسل مؤقف اختیار کرتا ہے کہ تنازع کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے جب کہ بھارت پورے جموں و کشمیر پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔
اگست 2019 میں بھارت نے اپنے زیرانتظام جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 سے متعلق خصوصی انتظام ختم کیا اور سابق ریاست کو دو وفاقی اکائیوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا۔ اس اقدام کے بعد پاکستان نے بھارت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی تنازع قرار دیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular