
نیویارک: نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری جنگ نے امریکہ کے اہم ہتھیاروں کے ذخائر کو انتہائی کم سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کی عالمی فوجی طاقت اور ممکنہ مخالفین کو روکنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکہ نے 1,500 سے زائد پیٹریاٹ میزائل جبکہ ہزاروں کروز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔ ان ذخائر کی دوبارہ تیاری اور مطلوبہ سطح تک بحالی میں کم از کم دو سال لگنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی کا مسئلہ ایران جنگ سے پہلے بھی موجود تھا، بالخصوص یوکرین کو مسلسل فوجی امداد فراہم کرنے کے باعث، تاہم ایران کے ساتھ طویل جنگ نے اس کمی کو ایک بڑے اسٹریٹجک بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے امریکہ کی یورپ اور ایشیا میں ممکنہ فوجی خطرات کا فوری جواب دینے کی صلاحیت کو بھی کمزور کیا ہے۔
فوسری جانب، نیویارک ٹائمز کے مطابق روس اور چین امریکی اسلحہ ذخائر میں ہونے والی کمی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ اسے تائیوان یا مشرقی یورپ جیسے حساس اور متنازع علاقوں میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ رپورٹ کے مطابق اگر امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کی بحالی میں طویل عرصہ لگتا ہے تو اس کے اثرات ایران جنگ سے آگے بڑھ کر عالمی طاقت کے توازن اور موجودہ سکیورٹی نظام کو آنے والی کئی دہائیوں تک متاثر کر سکتے ہیں۔


































