
اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات ہو تو پی ٹی آئی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آسکتی ہے ۔ اگر حکومت چاہتی ہے پارلیمنٹ رہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو بات کریں، پارلیمنٹ ہاؤس کے کانسٹیٹیوشن روم میں مذاکرات کریں تو ہم تیار ہیں۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم وزیراعظم ہاؤس جا کر ان کی پوزیشن کو قانونی جواز نہیں فراہم کرنا چاہتے، اسپیکر آفس میں بھی مذاکرات نہ کرنے کی یہی وجہ ہے، ہم ان کو قانونی نہیں مانتے۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہا کہ 26 ویں ترمیم سے قبل بانی پی ٹی آئی سے عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی تھی، عمران خان کی صحت سے متعلق جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا جاتا ہے، اس کا مقصد پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا بھی ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ میں عمران خان اور پارٹی میں فرق سمجھتا ہوں، آخری دم تک بانی پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ محسن نقوی کی سسٹم کولیپس کرنے کی بات کی تائید کرتا ہوں، محسن نقوی نے جس مرض کی نشاندہی کی وہ درست ہے مگر تجویز کی گئی دوا غیر قانونی ہے۔


































