
واشنگٹن: امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات آخری وقت میں ناکام ہوگئے۔ جس کے بعد کینیڈین اشیا پر پچاس فیصد امریکا کے نئے محصولات نافذ ہوگئے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ امریکی تجاویز میں آخری لمحات کی تبدیلیاں غیرمنصفانہ اور معاشی طور پر ناقابلِ قبول تھیں۔ ان تبدیلیوں سے کسی بھی ممکنہ تجارتی معاہدے کی قابلِ اعتماد ہونے پر بھی سوال اٹھ گیا ہے۔ مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا امریکی اشیا پر ڈالر کے بدلے ڈالر کی بنیاد پر جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں عارضی طور پر ان ٹیرف کو مؤخر کر دیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ممالک ایک ایسے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا۔


































