
ایک دن ایک ٹیکسی ڈرائیور اپنی بیگم کے ساتھ کہیں جارہا تھا کہ راستے میں انہیں رجب علی خیاط (بہت بڑے عارف جن کی برزخی آنکھیں روشن تھیں) نظر آئے۔ ان کی بیگم پیچھے سیٹ پہ بیٹھ گئیں اور رجب علی خیاط ڈرائیور کے برابر میں۔
ڈرائیور انہیں جانتے تھے۔
ان سے پوچھا: "میری بیگم کو چند دنوں سے سر میں شدید درد ہے ڈاکٹروں کے پاس لے گئے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں مل رہا. آپ کیا کہتے ہیں؟”
رجب علی خیاط سوچ میں چلے گئے اور پھر اس خاتون سے مخاطب ہو کر کہا:
"میری بہن! بچے کو تو ایسے نہیں مارتے۔ جاؤ کچھ مٹھائی خرید کے اس بچے کے دل سے وہ ناراضگی نکالو، سر کا درد ٹھیک ہوجائے گا۔ بچے کی ایسی پٹائی لگانا اس پر ظلم تھا۔ یہ سر کا درد اسی کا نتیجہ ہے۔”


































