
تحریر: علی واحدی
ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس آمد کے ساتھ ہی صیہونیوں اور عرب حکمرانوں کی ایک مختصر تعداد ایک بار پھر پرامید ہوگئی ہے کہ تعلقات معمول پر آنے والی ٹرین دوبارہ حرکت میں آجائیگی اور اسرائیل عرب تعلقات میں پیشرفت کا خواب پورا ہو جائیگا۔ ادھر غزہ کے رہائشیوں کو دوسرے عرب ممالک میں منتقل کرنے کے بارے میں ٹرمپ کے متنازعہ موقف نے تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبے کو پہلے سے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے سعودی حکومت کو فلسطینیوں کے لیے زمین مختص کرنے کا انوکھا اور متنازعہ بیانیہ ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے بے گھر فلسطینیوں کی بستیوں کی تعمیر کی کوششوں اور سفارتی تعلقات کے کسی بھی قیام کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کرنے کے بیان کے بعد نیتن یاہو نے سعودی عرب کو طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودیوں کے پاس بہت زیادہ خالی زمین ہے اور سعودی وہاں فلسطینی ریاست بنا سکتے ہیں۔
اگرچہ سعودیوں نے ابھی تک نیتن یاہو کے طنزیہ تبصرے پر کوئی فیصلہ کن ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، کیونکہ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف صہیونی علاقائی دعوے بالآخر یا تو قبضے کا باعث بنے ہیں (جیسے شام کی گولان کی پہاڑیوں اور وادی اردن) یا ان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا پیش خیمہ (جیسے کہ مصر، لبنان اور مصر کے درمیان سرحدی تنازعات)۔ نیتن یاہو کا یہ بیانیہ بغیر کسی ارادے یا مقصد کے نہیں ہوسکتا۔ حقیقت میں اس بیان کے پیچھے گہری جغرافیائی سیاسی اور تزویراتی جہتیں موجود ہیں، جن کی تشریح "گریٹر اسرائیل” یا دریائے نیل سے فرات کے صیہونی منصوبے کے تناظر میں کی جا سکتی ہیں۔ دوسری طرف ہمیں اس بیان پر سعودی عرب میں رائے عامہ کے سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیئے۔
اس تجویز کے ساتھ نیتن یاہو ایک طرح سے سعودی عرب سے کہہ رہے ہیں کہ وہ فلسطین کا مسئلہ حل کرے اور فلسطینیوں کو اپنی زمین پر جگہ دے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں کا اپنی سرزمین پر کوئی تاریخی حق نہیں ہے اور انہیں عرب ممالک میں آباد کیا جانا چاہیئے۔ یہ صیہونی حکومت کی وہی پرانی پالیسی ہے جو فلسطینیوں کو زبردستی نقل مکانی کرنے اور ان کی واپسی کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس تناظر میں اہم نکتہ امریکی سیاستدانوں کے بیانات میں "گریٹر مڈل ایسٹ پلان” کے احیاء کے خطرات اور ٹرمپ کا نوآبادیاتی سے متعلق تسلط پسندانہ نظریہ ہے۔ اس نقطہ نظر نے ملکوں کی علاقائی خود مختاری کی پرواہ کیے بغیر عرب حکومتوں کو امریکی منصوبے کے ساتھ چلنے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔ اس لیے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ فلسطینیوں کے لیے ایک نئی علاقائی اکائی کی تشکیل کی کوشش میں سعودی سرزمین کے کچھ حصے شامل نہیں کئے جائیں گے۔
سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کو زمین دینے کے تصور کو محض زمین فراہم کرنے اور ملک کے حصوں کو تقسیم کرنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ عرب ممالک کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے باقاعدہ کوٹہ سسٹم کے تحت منصوبہ بندی کی جائے گی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے نقطہ نظر سے، سعودی عرب کو ایک بڑے اور دولت مند عرب ملک کے طور پر، قدرتی طور پر پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کو قبول کرنا چاہیئے۔ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے ٹرمپ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں دنیا کی جانب سے اس طرح کے تاثر کو قبول کرنا سعودیوں کے لیے بہت سے منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں، سعودی عرب نے وژن 2030ء میں محمد بن سلمان کی اقتصادی پالیسیوں پر مبنی نئے منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے لیے بڑے پیمانے پر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ وسیع بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان میں سب سے اہم NEOM منصوبہ ہے۔ تبوک صوبے کے اس منصوبے میں اردن اور مصر کی سرحدوں کے قریب اور مقبوضہ علاقوں کے جنوبی ساحل سے ملحقہ عقبہ کے ساحل پر سعودی صحراؤں کی ترقی شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب کو خطے کا مستقبل کا اقتصادی مرکز بنانا ہے اور مغرب اور مشرق کے بڑے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔ سعودیوں نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس میگا پروجیکٹ کو شروع کرنے کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ نیتن یاہو کی حالیہ تجویز سے اس میگا پراجیکٹ کو دو بڑے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
سیاسی اور سکیورٹی عدم استحکام:
اس طرح کے بیانات سے NEOM میں سرمایہ کاری کے تحفظ پر سوال اٹھیں گے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ علاقائی سالمیت میں عدم استحکام اور خطے میں سیاسی تناؤ کے پیش نظر اس سے خطے میں کسی بھی طرح کی کشیدگی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کرسکتی ہے۔ مصر اور اردن کے ساتھ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں کو فلسطینیوں کی منتقلی کے لیے ممکنہ جگہ قرار دینے سے مستقبل میں سعودی عرب کے اقتصادی منصوبوں میں مداخلت بڑھے گی اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو پیچیدہ بنا کر اسے سعودی عرب کے اقتصادی منصوبوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صیہونی حکومت کی جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی اہداف کو آگے بڑھانے کے مقصد سے اقتصادی منصوبوں میں داخل ہونے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ صیہونی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر سعودی سرزمین پر اپنے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو بڑھا کر اپنے دیرینہ مذموم مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔


































