
تحریر: علی احمدی
ایران اور پاکستان سمیت کئی ممالک کا ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان میں امن اور استحکام، خطے میں پائیدار امن اور استحکام میں بہت اہم کردار کا حامل ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام، ہمسایہ ممالک میں امن و استحکام کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔ لہذا اگر اس ملک میں سالہا سال بدامنی اور جنگ کے بعد امن و امان حکمفرما ہو جاتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ خطے کی سلامتی کو پہنچے گا۔ کئی عشروں تک جنگ اور خونریزی کے بعد افغانستان اس وقت ایک تاریخی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ طالبان کی سرکردگی میں موجودہ افغان حکومت بھی امن اور استحکام کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ اس مقصد کیلئے طالبان نے بڑی عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
ان مذاکرات کا مقصد ایک طرف اپنے لئے حکومت کا جواز فراہم کرنا ہے جبکہ دوسری طرف دنیا کے مختلف ممالک سے تعلقات استوار کر کے گوشہ نشینی سے باہر نکلنا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا اور خطے میں امن و استحکام لانے کیلئے طالبان واحد کھلاڑی نہیں ہے بلکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس مقصد کے حصول میں بہت اہم کردار کی حامل ہیں۔ خاص طور پر امریکہ اور روس قابل ذکر ہیں کیونکہ ان دونوں ممالک کے حکمران اپنے فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے براہ راست افغانستان اور خطے کی سلامتی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ گذشتہ طویل عرصے سے افغانستان میں بیرونی مداخلت وہاں امن و استحکام پیدا نہ ہونے کا باعث بنی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک سے بیرونی طاقتوں کے مفادات وابستہ ہیں۔
یہ عالمی اور علاقائی طاقتیں افغانستان سے وابستہ اپنے مفادات سے چشم پوشی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور حتی اس ملک میں امن اور استحکام کے فروغ میں بھی اپنے مفادات کی جستجو کر رہے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ بھی انتہائی اہم اور قابل ذکر ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اکیلے اس ملک میں امن و استحکام کی صورتحال بہتر بنانے پر قادر نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب موجودہ افغان حکمران درست فیصلے اور اقدامات انجام دیں گے۔ صرف وہ اپنے درست فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے ملک کو بدامنی اور جنگ کے بھنور سے نجات دلا سکتے ہیں اور یوں مظلوم افغان عوام کو بھی سکھ اور چین کی زندگی بسر کرنے کا موقع میسر ہو سکتا ہے۔
افغانستان کے موجودہ حکمران اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ سیاسی اور سماجی امور میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنانا ہے۔ افغانستان میں ایک طرف تو عوام کو سیاسی معاملات میں زیادہ سے زیادہ شریک کرنے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری طرف ملک میں بسنے والی تمام اقوام اور نسلوں کو بھی ملکی امور میں شامل کر کے اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جب تک ملک کی تمام اقوام ایک قومی دھارے میں داخل نہیں ہوتیں اس وقت تک امن اور استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ ایک اور اہم نکتہ افغانستان میں دہشت گردانہ گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ جب سے افغانستان میں طالبان برسراقتدار آئے ہیں، تمام ہمسایہ ممالک نے انہیں اس بات کی تاکید کی ہے کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سنجیدہ اور موثر اقدامات انجام دیں۔
لہذا افغان حکومت کی جانب سے ایک طرف تمام اقوام کو حکومتی امور میں شامل کر کے قومی حکومت تشکیل دینے اور دوسری طرف دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر اقدامات انجام دینے کی صورت میں ہی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا اور علاقائی اور دیگر ممالک سے تعلقات استوار کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ لیکن اگر موجودہ حکومت تمام اقوام اور قبائل پر مشتمل وسیع قومی حکومت تشکیل دینے کیلئے ضروری اقدامات انجام نہیں دیتے تو اس کا نتیجہ بدامنی اور عدم استحکام کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بدامنی اور انارکی کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی صورت میں اس کا براہ راست اثر ہمسایہ اور علاقائی ممالک پر پڑے گا۔ لہذا افغانستان اور خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کیلئے یہ اقدامات انتہائی ضروری ہے۔
دوسری طرف ہمسایہ ممالک ایک حد سے زیادہ افغان حکومت پر دباو نہیں ڈال سکتے اور اسے اپنی ہدایات اور منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کیلئے مجبور نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ایسی صورت میں نہ صرف افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ حاصل نہیں ہو گا بلکہ اس بیرونی مداخلت کا واحد نتیجہ بدامنی اور عدم استحکام کی صورت میں ظاہر ہو گا جس کا لازمی نتیجہ خطے اور ہمسایہ ممالک میں بھی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آئے گا۔ لہذا افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام ایک طرف افغان حکومت کے مثبت اقدامات پر منحصر ہے جبکہ دوسری طرف ہمسایہ ممالک اور علاقائی اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں سے وابستہ ہے۔ اگر علاقائی اور دیگر ممالک کا رویہ حسن نیت، انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ہو تو افغانستان میں امن و استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔


































