
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
مہسا امینی کی موت کو بہانہ بنا کر ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بیرونی دشمنوں نے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور مزید فسادات بھڑکانے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا۔ درحقیقت حالیہ ہنگامہ آرائی میں امریکہ اور یورپ کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ صیہونی حکومت، ان کے ذرائع ابلاغ اور مغربی حمایت یافتہ فارسی زبان کے ذرائع ابلاغ جیسے ایران انٹرنیشنل سیٹلائٹ نیٹ ورک نے اس صورت حال سے استفادہ کیا۔ ایرانی قوم کے حقوق کی حمایت کے نعرے کے روپ میں انہوں نے بلوائیوں، فسادیوں اور ملکی سلامتی میں خلل ڈالنے والوں کا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مغربیوں بالخصوص امریکیوں نے سائبر سپیس اور ایران کے خلاف پابندیاں اٹھانے کے وعدے کرکے ان فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ مداخلت پسندانہ انداز اختیار کرکے اسلامی نظام کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کی، لیکن آخرکار انہیں مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران دشمن ان ممالک نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اگلے مرحلے میں مغربی بلاک، امریکہ اور یورپی یونین نے کینیڈا اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایران کے بہت سے حکام اور اداروں پر مختلف بہانوں سے پابندیاں لگا دیں۔
یہ پابندیاں جو کہ ایران کے عوام کے تحفظ کے بہانے لگائی گئی ہیں، نہ صرف ایک آزاد ملک کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے سراسر خلاف ہیں۔ ملت ایران کے بارے میں مغرب والوں کا رویہ ہمیشہ فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی رہا ہے۔ اہل مغرب نے ایران کے اعلیٰ حکام اور عہدے داروں کے حوالے سے اپنے میڈیا اور اشتہارات دونوں میں کئی بار اس مسئلے پر توجہ مرکوز کی ہے کہ ایرانی عوام حکومت کی خامیوں اور کمزوریوں کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آگئے ہیں اور وہ حکومتی نظام پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، حالانکہ صورت حال اس دعوے کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب مختلف شعبوں میں ایران کی پیشرفت سے خوفزدہ ہے۔ وہ ایران کی جوہری ترقی اور فوجی صلاحیتوں بالخصوص میزائلوں اور ڈرونز کی مخالفت کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ مختلف شعبوں من جملہ سائنس، صنعت، اقتصاد، نیز سماجی اور ثقافتی شعبوں میں ایران کی زبردست ترقی مغرب کے لئے قابل ہضم نہیں ہے۔ مغرب کی طرف سے ایران کی اس تیز رفتار ترقی اور پیشرفت کو روکنے کے لیے ایران میں انتشار اور بدامنی کے لیے ہر طرح کی حمایت کی جاتی ہے۔
گذشتہ چار دہائیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران نے مختلف اقتصادی، سماجی، فوجی، صنعتی اور زرعی میدانوں نیز جدید ٹیکنالوجی میں شاندار ترقی کی ہے، جس کا اعتراف اسلامی ایران کے دشمن بھی کرنے پر مجبور ہیں۔ اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد چار دہائیوں کے دوران ایران نے خود کفالت اور اندرونی صلاحیتوں کی ترقی اور تیل جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں بیرونی ممالک پر انحصار ختم کرکے اس میدان میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ گیس کی صنعت، پیٹرو کیمیکلز، بھاری صنعتوں اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی دشمن کے لئے ناقابل برداشت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کے نوجوان سائنسدانوں اور محققین نے جدید ٹیکنالوجی جیسے نینو ٹیکنالوجی، سٹیم سیل اور خلائی صنعت کے میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایران سائنسی اور علمی ترقی کی راہ میں بھی شاندار پیش رفت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ایران میں علمی ترقی کا ایک اور پیمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایران میں یونیورسٹیوں کی تعداد جو انقلاب سے پہلے تقریباً 15 تھی، آج 2640 سے زائد ہوچکی ہے۔ اسلامی ایران کے دشمن اقتصادی و تجارتی، سائنسی اور تکنیکی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں ایران کی صلاحیتوں میں اضافے اور ایران کی متحرک خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ اس کی عسکری قوت سے بہت خوفزدہ ہیں۔ بلاشبہ یہ مسئلہ دشمنی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ لہذا وہ کسی بھی بہانے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مغرب والوں نے اسی تناظر میں بلوائیوں اور فسادیوں کے ذریعے اس ترقی کی راہ پر کانٹے بونے کی کوشش کی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیر کے روز قم میں 19 دی شمسی1356 کی تاریخی بغاوت کی سالگرہ کے موقع پر قم کے عوام کے ایک گروپ سے ملاقات میں حالیہ فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ملک کے حالیہ واقعات میں بیرونی دشمن کا ہاتھ پہلے ہی دن سے نمایاں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ حالیہ واقعات میں امریکہ اور یورپی ملکوں نے کھلے بندوں مداخلت کی اور ان کی پروپگنڈا مشینری نے سب سے اہم کردار ادا کیا، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مغربی، عربی اور صیہونی ذرائع ابلاغ اور شوشل میڈیا چینلوں نے اپنے بھرپور پروپیگنڈے کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ یہ واقعات ایران میں اقتصادی اور انتظامی مشکلات کے خلاف ہیں، لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ان کا مقصد اقتصادی اور انتظامی کمزوریوں کو برطرف کرنا نہیں بلکہ ملک کی طاقت و سلامتی کو ختم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا تھا۔ ان لوگوں نے ان مراکز کو ٹارگٹ بنایا کہ انھیں بند کر دیں، تاکہ علم حاصل نہ کیا جا سکے۔ سکیورٹی نہ رہے، علم کا حصول نہ رہے۔ یہ لوگ کمزور پہلوؤں کو ختم نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ یہ مضبوط کاموں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔


































