
تحریر: عارف بلتستانی
میزائیل زمین کو چیر سکتے ہیں، مگر تاریخ کا راستہ نہیں بدل سکتے۔ تاریخ ہمیشہ ان قدموں کے ساتھ چلتی ہے جو خوف کے مقابلے میں یقین کا انتخاب کرتے ہیں۔ چند روز پہلے شلمچہ اور عراق کی سرزمین پر بارود کی بو تھی اور طاقت اپنے وجود کا اعلان کر رہی تھی۔ آج وہی راستے لاکھوں زائرین کے قدموں کی آہٹ سے آباد ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے، گویا بارود اور عشق ایک ہی سرزمین پر اپنا اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہوں۔ ایک موت کی منطق کے ساتھ اور دوسرا حیات کے یقین کے ساتھ۔
یہ محض جنگ اور زیارت کا تقابل نہیں بلکہ انسان کے دو تصورات کا سامنا ہے۔ ایک تصور انسان کو خواہش، طاقت اور غلبے کا محور بناتا ہے، جبکہ دوسرا اسے خدا کی بندگی میں حقیقی آزادی عطا کرتا ہے۔ اسی لیے شلمچہ اور کربلا محض دو مقامات نہیں بلکہ دو تہذیبوں کے درمیان کھنچی ہوئی ایک فکری لکیر ہیں۔ ایک تہذیب خوف کے ذریعے اطاعت حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری عشق، عقل اور ایمان کی ہم آہنگی سے شعور و بیداری پیدا کرتی ہے۔
اربعین کی پیادہ روی کو صرف لاکھوں انسانوں کی نقل و حرکت سمجھنا اس کے باطن سے ناواقف ہونا ہے۔ یہاں انسان راستہ نہیں ناپتا بلکہ اپنے نفس سے فاصلہ طے کرتا ہے۔ ہر قدم اسے دنیا کی کشش سے دور اور حقیقت کے مرکز کے قریب لے جاتا ہے۔ اسی لیے اس سفر میں تھکاوٹ بھی عبادت ہے، انتظار بھی عبادت ہے اور خدمت بھی عبادت ہے۔ یہاں عقل راستہ دکھاتی ہے، جبکہ عشق اس راستے پر استقامت عطا کرتا ہے۔ جب عقل وحی کے نور میں عشق سے ہم آہنگ ہو جائے تو حریت جنم لیتی ہے اور یہی حریت ہر عادلانہ تمدن کی بنیاد بنتی ہے۔
اسی حقیقت کو شہید آوینی آزادی کے دو متضاد تصورات کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مغربی آزادی انسان کو ہر قید سے رہائی کا وعدہ دیتی ہے، مگر بالآخر اسے اپنی خواہشات کا اسیر بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی آزادی خدا کے سوا ہر باطل تعلق سے نجات کا نام ہے، جہاں آزادی خواہش کی نہیں بلکہ حقیقت، عدالت اور فطرت کی تابع ہوتی ہے۔ یہی آزادی انسان کو بندگی کے ذریعے حریت، ذمہ داری اور عبودیت کی کرامت عطا کرتی ہے۔ اربعین اسی اسلامی آزادی کی مجسم تفسیر ہے۔ یہاں آزادی کا اعلان زبانوں سے نہیں بلکہ قدموں سے ہوتا ہے، اور بندگی ہی حریت کی بلند ترین منزل بن جاتی ہے۔ یہی وہ آزادی ہے جس کے لیے امام حسینؑ نے اپنا پاکیزہ لہو نچھاور کیا اور جسے انسانیت کے لیے ایک ابدی پیغام بنا دیا۔
کربلا کے راستے میں انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دھماکوں کا شور کتنا عارضی ہے اور عشق کی خاموشی کتنی ابدی۔ چند روز پہلے جن راستوں پر خوف مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج انہی راستوں پر "لبیک یا حسینؑ” اور "مردہ باد امریکہ و اسرائیل” کی صدائیں ہر اس استکباری طاقت اور سوچ کے انکار کا اعلان کر رہی ہیں جو انسان کو خوف کے ذریعے جھکانا چاہتی ہے۔ موکبوں میں بے لوث خدمت، اجنبیوں کے درمیان اخوت، پیاسوں کے لیے پانی، بھوکوں کے لیے غذا اور تھکے ہوئے مسافروں کے لیے آرام گاہیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ تمدن ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ انسانوں کے ایمان، ارادے اور اخلاقی اقدار سے زندہ رہتے ہیں۔
اسی لیے اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ عاشورا کے پیغام کی تمدنی تجدید ہے۔ یہاں محبت عبادت ہے، ایثار معیشت ہے، خدمت ثقافت ہے اور ہر انسان دوسرے انسان کے لیے امانت ہے۔ یہی وہ تہذیب ہے جسے نہ میزائل شکست دے سکتے ہیں، نہ دھمکیاں، نہ سلطنتیں۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے ایوانوں میں نہیں ہوتا۔ کبھی وہ گرد آلود راستوں پر ننگے پاؤں چلنے والوں کے قدموں میں رقم ہوتا ہے۔ اسی لیے خوف کی ہر زبان آخرکار خاموش ہو جاتی ہے، مگر عشق، عقل اور ایمان کی ہم آہنگی نسلوں تک تاریخ کا رخ متعین کرتی رہتی ہے۔ نجف سے کربلا تک کا یہ سفر اسی ابدی حقیقت کی گواہی ہے کہ خدا کی طرف اٹھنے والا ہر قدم تاریخ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔


































