
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے ABC کے مطابق، روس کی افغانستان میں تاریخی موجودگی اور طالبان کے ساتھ نئے تعلقات کی تشکیل، یوکرین میں ماسکو کی بدلتی ہوئی سکیورٹی اور اقتصادی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں کی مشترکہ دشمن داعش خراسان کو طالبان اور کریملن کے تعلقات کے تناظر میں سب سے اہم محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ روس کے تعلقات 19ویں صدی اور وسطی ایشیاء پر سامراجی دشمنیوں کے دور سے شروع ہوئے ہیں۔ سوویت یونین پہلا ملک تھا، جس نے 1919ء میں افغانستان کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کیے، لیکن 1979ء میں اس ملک پر سوویت حملے نے ایک خونی دہائی کا آغاز کیا، جو بالآخر طالبان سمیت جہادی گروپوں کی تشکیل کا باعث بنا۔ آج جبکہ زیادہ تر ممالک طالبان کو تسلیم نہیں کرتے، روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جو طالبان گروپ کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
پابندی اٹھانا اور سرکاری ملاقاتیں
گذشتہ ماہ روس کی سپریم کورٹ نے طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا۔ افغانستان کے لیے روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے اس اقدام کو کابل کے ساتھ تعاون کی راہ میں "تمام رکاوٹوں” کو دور کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ یہ اس حقیقت کے باوجود سامنے آیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے عملی تعلقات قائم تھے۔ ماسکو نے نہ صرف کابل میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھا ہے بلکہ اس نے ماسکو میں طالبان کے سفیر کے استقبال کے لیے بھی اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔
ایک مشترکہ خطرہ۔۔۔۔۔ داعش خراسان
روس (ISIS-K) داعش خراسان کو اپنی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔ یہ گروپ حالیہ برسوں میں روسی مفادات پر دو مہلک حملوں کا ذمہ دار رہا ہے: کابل میں روسی سفارت خانے پر حملہ (2022ء) اور ماسکو کے مضافات میں کروکس کنسرٹ ہال پر مہلک حملہ (2023ء)، جس میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ کروکس حملے کے بعد، ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ طالبان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں "ہمارے اتحادی” ہیں، حالانکہ بین الاقوامی برادری نے ابھی تک اس گروپ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے ساتھ ماسکو کا میل جول سکیورٹی اور داعش خراسان کے خطرے کا مقابلہ کرنے کا معاملہ ہے۔ ORF فاؤنڈیشن کے ایک محقق الیکسی زخاروف کے مطابق، روس کا طالبان کے ساتھ میل جول کا بنیادی محرک افغانستان سے وسطی ایشیاء اور روس تک شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
اقتصادی تعلقات
سکیورٹی مسائل کے علاوہ طالبان اور کریملن کے درمیان اقتصادی تعاون میں بھی ترقی آرہی ہے۔ روس کی جانب سے طالبان کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے نکالنے سے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ روس اپنی توانائی کی برآمدات کا کچھ حصہ ایشیائی منڈیوں خصوصاً ہندوستان اور پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے افغانستان کے اسٹریٹجک مقام کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ افغانستان سے گزرتا "نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور” (INSTC) منصوبے کا حصہ ہوسکتا ہے، جو روس کو ایران کے راستے بحر ہند سے ملاتا ہے۔ کازان، روس-افغانستان اقتصادی کانفرنس کان کنی، صاف توانائی اور گیس پائپ لائنوں کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
علاقائی مقابلہ، چینی عنصر
یوکرین کی جنگ میں روس کی شمولیت کے بعد چین بھی وسطی ایشیا میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس کے روایتی دائرہ اثر میں چین کی بڑی سرمایہ کاری، تجارتی معاہدے اور فوجی تعاون میں اضافہ بیجنگ کے نقطہ نظر کی نشانیاں ہیں۔ چین اس وقت وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور خطے میں ایک بڑی طاقت بن رہا ہے۔ اس تناظر میں ماسکو کے ساتھ طالبان کے تعلقات کو چین کے ساتھ طاقت کے توازن کے ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
روس اور طالبان کے درمیان حالیہ میل جول کو دونوں فریقوں کی سلامتی، علاقائی اور اقتصادی مفادات کے اتحاد کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ISIS-K کو ایک مشترکہ دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ماسکو وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے، مغربی پابندیوں سے بچنے اور افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب طالبان بھی سفارتی تنہائی کو توڑنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم، ان تعلقات کے استحکام کا انحصار بہت سے عوامل پر ہوگا، جن میں افغانستان کی داخلی سلامتی، یوکرائنی جنگ کی حالت اور چینی رقابت وغیرہ شامل ہیں


































