عرب اتحاد کی امریکی اور برطانوی مدد کے باجود یمن میں 6 سال سے جاری جارحانہ کارروائیوں کا پہلے ہی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اور رہی سہی کثر امریکا میں حکومت کی تبدیلی نے پوری کردی ، دہشت گرد ٹرمپ کی وائٹ ہاوس سے رخصتی کے بعد ایک ایسی شخصیت براجمان ہوئی جو اپنی اسلحہ فیکٹریوں کو چلتا تو رکھنا چاہتی ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنی دہشت گردانہ اور جنگجوانہ ساکھ کو بحال کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے ،اسی لئے نئے صدر جوبائیڈن نے یمن جنگ میں سعودی عرب اور عرب امارات کی حمایت ختم کرنے کا اعلان کردیا ،امریکی صدر نے دونوں ممالک کی اسلحہ جاتی مدد جاری رکھنے کا اعلان ضرور کیا لیکن یمن جنگ میں امریکی حمایت سے ہاتھ دھوبیٹھنا سعودی حکام کیلئے کسی صدمے سے کم نہیں ، دنیا جانتی ہے کہ سعودی اتحاد یمن کے خلاف امریکی سرپرستی ہی میں 6 سال سے مصروف جنگ ہے ،اور امریکی اور برطانوی مدد کے بغیر سعودی عرب چند دن سے زیادہ یہ لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا تھا،اب جبکہ امریکی سرپرستی ختم ہوئی ہے اور 6سال تک اربوں ڈالر پانی کی طرح بہاکر بھی سعودی عرب کو کچھ نہیں ملا تو اس نے یمن جنگ کی دلدل سے نکلنے کیلئے آبرومندانہ راستہ ڈھونڈنا شروع کردیا، اقوام متحدہ میں سعودی سفیر نے پہلی بار کھل کر اظہار کیا کہ اُن کا ملک مسئلہ کو مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے اور وہ اس کیلئے انصار اللہ سے بات چیت کیلئے تیار ہے،سعودی لب لہجہ میں یہ تبدیلی یمن میں ان کی جانب سے مسلط کردہ گروپوں کی شکست سے بھی سامنے آئی ہے، سعودی فوجی اتحاد نے جس وقت مارب پر قبضہ کیا تو انہوں نے صنعا پر چڑھائی کے شادیانےبجانا شروع کردئے تھے لیکن رواں ہفتے مارب سے متعلق جو پیشرفت سامنے آئی اس نے سعودی حکام کے ہوش اڑادئے ، حکومت صنعا کے وفادار، فوجیوں اور رضاکاروں نے مارب کی طرف پیش قدمی شروع کی تو سعودی فوج نے وہاں سے انخلا کی تیار ی کرلی ، یہ صورتحال ان کی شکست پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہے، سعودی فوجیوں کے مارب سے انخلا کی تیاری اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ان پر اتحادیوں اور منصور ہادی کو بھی اعتبار نہیں رہا اور یہ فوج اب اس قابل بھی نہیں کہ حکومت کا دفاع کرسکے،اس صورتحال میں سعودی عرب کیلئے واحد راستہ یہی ہے کہ وہ یمن جنگ سے جتنی جلدی جان چھڑالے اتنا ہی اچھا ہے ،فوجی طاقت سے تو وہ یمنیوں کو شکست نہیں دے سکا اب اسے چاہئے کہ وہ مذاکرات کے بہانے ہی سہی اس جنگ سے نکلنے کی تیاریاں کرے ،ہوسکتا ہے کہ 6سال میں کچھ حاصل نہ کرسکنے کی شرمندگی اور حزیمت اسے باز رکھنے کی کوشش کرے لیکن وہ جتنا اس دلد ل میں رہے گا اتنا ہی مزید دھنستا چلاجائے گا۔ReplyReply allForward