بیروت دھماکے کے بعد امریکی ایما پر شروع کئے گئے پرتشدداحتجاج نے لبنانی وزیر اعظم حسان دیاب کو مجبور کردیا کہ وہ اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوجائیں اور انہوں نے مستعفی ہوکر قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کردیا، ایسا لگتا ہے کہ حسان دیاب نے حکومت پر بڑھتے دباو کے باعث پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر اس بات کو ترجیح دی کہ کسی متبادل شخص کے دوبارہ انتخاب میں ملک کا ہاتھ کھلا رکھیں،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لبنان میں یہ سیاسی حالات کیونکر پیدا ہوئے؟ اس کیلئے ہمیں لبنان میں ایک عشرے سے پنپتی سازشوں پر نظر ڈالنا ہوگی ،جس کا سب سے بڑا سرخیل امریکا ہے جو اسرائیل کے تحفظ کی خاطر لبنان کو کمزور ترکرنے کے مشن پر گامزن ہے،مگر اس کی راہ میں سب بڑی رکاوٹ حزب اللہ بنی ہوئی ہے ،بیروت دھماکے سے امریکا اور اس کے اتحادی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کو موقع ملا ہے کہ وہ اس کانٹے کو دور کرنے کیلئے پیشرفت کریں، اس اتحاد میں فرانس بھی شامل ہوگیا ہے ،فرانسیسی وزیراعظم بیروت دھماکے کے فوری بعد لبنان پہنچے اور کھلے بندوں نئی حکومت تشکیل دینے کا غیرقانونی مطالبہ دہرادیا، لبنان کی بحرانی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ موجودہ حکومت کو سہارا دیتے ،دھماکے میں جانوں کے ضیاع پر تعزیت پیش کرتے انہوں نے حکومت مخالف سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کو حکومت کے خلاف مشتعل کر دیاجس کا نتیجہ حسن دیاب کے استعفی کی صورت میں نکلا، استعفی کے بعد فرانسیسی وزارت خارجہ کا بیان یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جڑیں کتنی گہری ہیں،فرانسیسی حکومت بظاہر تو لبنان میں نئی حکومت کو تعمیر نو کے نا م پر تشکیل دینے کا مقصد ظاہر کررہی ہے لیکن اس کا اصل ہدف ایسی حکومت کا قیام ہے جو اس کے مفاد میں ہو اور مزاحمتی گروہوں خاص طور پر حزب اللہ کو کمزور بلکہ غیر مسلح کرے،اس کام میں فرانس کو امریکا اور سعودی عرب کی بھی مدد حاصل ہے ،اس وقت لبنان بالکل اسی صورتحال سے دوچار ہے جو سعد الحریری کے استعفیٰ کے بعد پیش آئی تھی، لیکن اس بار مسئلہ صرف نئی حکومت کا قیام نہیں بلکہ بیروت دھماکے میں جانوں کے ضیاع اور بھاری نقصانات کے ازالے اور متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ہے سخت غم و غصہ کا شکار ہیں،اس وقت حکومت کی سب سے اہم ذمہ داری، بیروت دھماکے سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنا اور ملک کے دشوار معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے ایسے حالات میں سیاسی بحران نے لبنانی عوام کو نئی الجھن میں ڈال دیا ہے، لوگوں اسی شش وپنج میں ہیں کہ نئی حکومت کب تشکیل پائے گی اور کیا یہ حکومت، قومی اتحاد کی حکومت کا مصداق بن پائے گی؟ نئی حکومت میں کون کس کا متبادل ہوگا؟ ان سوالوں کے جواب کیلئے کچھ دن انتظار کرنا ہوگا۔
| ReplyReply allForward |


































