| جنرل حاج قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں شہادت کو ایک سال ہونیوالا ہے ، انہیں 3جنوری کو بغداد ائرپورٹ کے قریب امریکی میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، اس حملے کے بعد ایران نے عراق میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کرکے بھرپور جواب دیا ، اس حملہ کو ایرانی حکام نے پہلا طمانچہ قرار دیا اور واضح کیا کہ بھرپور انتقام ابھی باقی ہے ،اسی عزم کا نتیجہ ہے کہ شہید کی پہلی برسی پر امریکی اور اسرائیلی حکومت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ،دونوں دشمن ممالک کو خوف ہے کہ ایران شہید کی برسی کے موقع پر کوئی نہ کوئی کارروائی کرسکتا ہے اور یہ کارروائی براہ راست کے بجائے ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی جانب سے کی جاسکتی ہے ، امریکی سینٹ کام کمانڈر جنرل کینتھ مکنزی اسی خوف کے تناظرمیں بغداد پہنچے اور عراق کے فوجی حکام سے ملاقاتیں کرکے انہیں مزاحمتی گروپوں سے نمٹنے پر زور دیا اور دھمکی دی کہ اگر عراق کے اندر امریکا پر حملہ ہوا تو اس کے نتائج عرا ق کیلئے بھی اچھے نہیں نکلیں گے،ایران کو دھمکانے کیلئے امریکا نے ایٹمی طاقت کے حامل گائیڈڈ میزائل سے لیس آبدوز کو خلیج فارس میں بھیج دیا ہے، یہ ساری بھاگ دوڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا ایران کے ردعمل سے خوفزدہ ہے وہ جانتا ہے کہ اس نے جس شخصیت کو نشانہ بنایا وہ کوئی عام شخصیت نہیں تھی بلکہ ایران نے جو آج روایتی اسلحہ میں خودکفالت حاصل کی ہے اس کے پیچھے شہید سلیمانی کا ہاتھ ہے ، سردار سلیمانی ایسی شخصیت جس نے ایران عراق آٹھ سالہ جنگ سے لے کر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے خلاف جہاد کی فرنٹ لائن تک اور وہاں سے لے کر عراق اور شام میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ تک، اپنی عمر کے چالیس برس مختلف جنگوں میں گزارے ، دنیا کے فوجی ماہرین حیرت زدہ ہیں کہ شہید قاسم سلیمانی نے کیسے خالی ہاتھ جوانی کے عالم میں ایک ڈویژن کے کمانڈر کی حیثیت سے اپنے کام کا آغاز کیا اور آخرکار سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ کی حیثیت سے دنیا کے سب سے زیادہ شرپسند دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں جان ہتھیلی پر رکھے دسیوں ڈویژنز کی کمان سنبھالی اور فتح حاصل کی،آج دشمن بھی سمجھتا ہے کہ ایران سے فوجی ٹکراو کا تصور بھی ان کیلئے اذیت کا باعث ہے، خطے میں امریکا کے پیدا کردہ ایک بڑے عفریت داعش کو شکست سے دوچار کرنے میں بھی کوئی اور نہیں یہی سردار سلیمانی تھے ، امریکا آج ایران کو دھمکانے کیلئے جنگ کا ڈھونگ ضرور رچانے میں مصروف ہے لیکن اس کی جرات نہیں کہ کوئی عملی قدم اٹھاسکے،پابندیوں کے حصار ،جدیدہتھیاروں سے دوری کے باوجود دشمن کا خوف اس کے اقدامات سے واضح ہے ،امریکا سمجھتا ہے کہ ایران شہید سلیمانی کی برسی پر کوئی بڑا قدام اٹھائے لیکن وہ شائد اب تک ان لوگوں کی فہم وفراست اور حکمت عملی کو سمجھ نہیں سکا ہے،ایران کی جانب سے کوئی بھی قدم ہواسے نہات سوچ بچار کے بعد اٹھایا جاتا ہے، شہید قاسم سلیمانی کاانتقام بھی ضرورلیا جائے گا لیکن کب یہ فیصلہ بھی خود ایرانی کرے گا امریکا نہیں۔ |


































