پنجاب کے زائرین کو تفتان اور ملتان کے بعد ان کے اضلاع میں بھی قرنطینہ کردیا گیا، گھروں کے باہر کورونا وائرس اور قرنطینہ کے ا سٹیکرزچسپاں
زائرین کا ملتان سے گھر لے جانے کا کہہ کر سرگودھا قرنطینہ سینٹر لانے پر احتجاج، زیارت اور محبت اہل بیت ؑکو جرم بناکر پیش کیا جا رہا ہے،شیعہ علما کونسل
ملتان(نیوز ڈیسک) کورونا وائرس سے نمٹنے کی مہم کی آڑ میں زائرین کی توہین اور ان سے غیر انسانی سلوک بند نہ ہوسکا،پنجاب کے زائرین کو تفتان اور ملتان کے بعد ان کے اضلاع میں بھی جانوروں کی طرح قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے، زائرین کے گھروں کے باہر کورونا وائرس اور قرنطینہ کے ا سٹیکر لگائے جارہے ہیں، جس پر تمام ملی تنظیموں نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور احتجاج سے خبردار کیا ہے، تفتان اور ملتان کے قرنطینہ سینٹر سے سرگودھا کے قرنطینہ سینٹر لے جائے جانیوالے زائرین نے انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا،زائرین نے کہا کہ وہ پہلے 14دن تفتان اور 18دن ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں رہے ہیں، اب مزید 14دن سرگودھا کے قرنطینہ سینٹر میں نہیں رہیں گے، زائرین نے قرنطینہ سینٹر کے باہر ہی دھرنا دے دیا اور احتجاج شروع کر دیا، زائرین نے کہا کہ ہمیں ملتان سے گھر لے جانے کے لئے کہا گیا تھا لیکن قرنطینہ سینٹر میں لاکر بند کردیا، اطلاع ملنے پر وحدت مسلمین کے رہنما موقع پر پہنچے اور زائرین اور انتظامیہ کے مذاکرات کروائے اور انتظامیہ کو زائرین کے تحفظات سے آگاہ کیا، شیعہ علما کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے زائرین کی تذلیل اور غیر انسانی رویئے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زائرین لاوارث نہیں، ظلم بہت ہوچکا، ہم انتظامیہ کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہم زائرین کیساتھ کھڑے ہیں، ایک ماہ 8 دن سے جاری ظلم و زیادتی اور ان کیساتھ مجرموں جیسے سلوک کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا پنجاب حکومت کی طرف سے روا رکھی جانیوالی بدسلوکی سے لگتا ہے کہ زیارت مقامات مقدسہ اور محبت اہل بیتؑ کو جرم بناکر پیش کیا جا رہا ہے، پہلے زائرین کو 18 دن تک تفتان بارڈر پر پاکستان ہاؤس کے نام سے قائم عقوبت خانے میں رکھا گیا، پھر ملتان قرنطینہ سینٹرمیں 14 دن بعد 1250 میں سے صرف 90 افراد میں کورونا کے مثبت ٹیسٹ آنے پر انہیں مزید علاج کیلئے رکھ لیا گیا، لیکن باقی منفی ٹیسٹ والے 1160 افراد کو گھر بھیجنے کے نام پر جھوٹ بولا گیا اور ہر ضلع میں قرنطینہ کے نام پر عارضی جیلوں میں بند کر دیا گیا، لگتا ہے کہ کورونا کے نام پر مخصوص ذہنیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔


































