کورونا وائرس کی مصیبت پڑی تو جرمنی اور ہالینڈ میں حکام کو اللہ یاد آگیا، دونوں ممالک میں لاؤڈاسپیکر پر اذان کی اجازت، جرمنی میں مسلمان وجد میں آگئے
پابندی کے باجود مسلمان مسجد کے باہر جمع،پولیس کا شکایت درج کرنے سے گریز،ہالینڈ میں بھی مسلمانوں نے پہلی بار اذان سن کر نہایت خوشی کااظہار کیا
برلن (نیوزڈیسک) کرونا وائرس کی مصیبت پڑی تو جرمنی اور ہالینڈ میں حکام کو اللہ یاد آگیا اور دونوں ممالک میں پہلی بار لاؤڈاسپیکر پر اذان کی اجازت دیدی گئی،جرمنی کے دارالحکومت برلن کی فضاؤں میں صدائے اذان کی گونج سنی تو مسلمان وجد میں آ گئے، کورونا کے باعث پابندی کے باوجود 300 سے زائد مسلمان مسجد کے باہر جمع ہوگئے اور اس تاریخی منظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے رہے،برلن کے علاوہ میونخ اور دوسرے بعض شہروں میں بھی پہلی بار اذان کی صدا فضا میں گونجی، برلن کے ضلع نیو کولون میں قائم دارالسلام مسجد اور پروٹیسٹنٹ مسیحی برادری کی ایک بین الثقافتی تنظیم ’آئی زیڈ جی‘ نے سماجی یکجہتی کی علامت کے طور پر ایک ہی وقت میں مسجد سے اذان اور گرجا گھر سے گھنٹیاں بجانے پر اتفاق کیا تھا، مسجد کے امام کے ساتھ بات چیت کے تحت نماز وقت سے پہلے ہی ختم کردی گئی پولیس نے حفاظتی احکامات کی خلاف ورزی کے سلسلے میں کوئی مجرمانہ شکایات درج کرنے سے گریز کیا، ہالینڈمیں بھی مسلمانوں کے حوصلے بلند رکھنے کے زیر مقصد لاؤڈ اسپیکروں سے اذان کی اجازت دیدی گئی، مسلمانوں نے پہلی بار اذان سن کر نہایت خوشی کااظہار کیا۔


































