سوال:مذہبی اجتماع میں شرکت کرنا اپنے آپ کو دکھانا ہے۔ کیا یہ ریا کاری نہیں؟
جواب: اول تو ہر خود نمائی اور ظاہر سازی حرام نہیں ہے میاں بیوی جو ایک دوسرے کے لئے آرائش کرتے ہیں یہ خود نمائی ہے لیکن یہی خودنمائی عبادت ہے۔
اسلام مسجد میں نماز کی ادائیگی پر زور دیتا ہے یہ ایک قسم کا ظاہر کرنا ہے لیکن دینی شعار کا مظاہرہ ہے۔ امام حسین ؑ کی عزاداری کے لئے سڑکوں اور محلوں اور گلیوں میں آنا خود نمائی ہے لیکن اس میں عبادت پوشیدہ ہے۔
دوسرا: بعض افراد کا مساجد اور محافل میں شرکت کرنا ایک قسم کا دوسرے کے لئے تبلیغ اور عملی ترغیب کا باعث ہے اگر تمام ایسے افراد جو حکومتی اداروں (یا اپنے اپنے شعبوں میں) بڑے عہدوں پر فائز ہیں نماز باجماعت میں شرکت کریں تو ان کو دیکھ کر اس سے عام آدمی بھی نمازی بن جائے گا اور مسجد میں آنے لگے گا۔
خودنمائی اور ریاکاری وہاں پر حرام ہے جہاں مقصد اور ہدف خود اس کی ذات ہو یعنی اگر اس لئے شرکت کریں تاکہ یہ ظاہر ہو ہم نیک اور اچھے ہیں یہ ریاکاری ہے اور حرام ہے لیکن اگر مراسم میں شرکت کا ہدف یہ ہو کہ میں بھی آرہا ہوں تم بھی چلو یہ عملی تبلیغ ہے۔ حتیٰ کہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- بچوں کے قرآنی سوالات
بچوں کے قرآنی سوالات
-
Ilyas - جنوری 16, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 24
- 0 minute read


































