جمع و ترتیب: سید عابد حسین زیدی
اس زمانے میں اہل تقویٰ اور اہل دین کے لئے شیطان نے بدنگاہی کا جال خاص طور پر ڈالا ہوا ہے کیونکہ اس فتنہ میں ظاہری موانع کم ہیں اس لئے نفس کو شیطان جلد ہی اس فتنے میں مبتلا کردیتا ہے۔
لیکن جس طرح ایک شفیق باپ یہ چاہتا ہے کہ میرے بیٹے عزت سے رہیں اور کسی بدفعلی میں ذلیل نہ ہوں تو خدا کی رحمت غیر محدود بھی یہ چاہتی ہے کہ میرے بندے کسی ذلیل فعل سے حقیر اور رسوا نہ ہوں اور تقویٰ کے ساتھ رہ کر باعزت زندگی گزاریں، حلال پر اکتفا کریں اور حرام سے پرہیز کریں اور جب اہل دنیا، دنیا کی لذتوں سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں تو میرے خاص بندے میری عبادت اور میرے ذکر کی لذت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور یہ ٹھنڈک دائمی ہے۔
مگر افسوس کہ ہم ان آنکھوں سے ہرناجائز اور ممنوع چیزیں دیکھنے میں اس طرح محو ہوگئے کہ اب تو اس کی برائی بھی ہمارے دلوں سے نکل چکی ہے اور اب تو یہ احساس بھی باقی نہیں رہا کہ یہ بھی کوئی مذموم اور گناہ کی چیز ہے۔
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ:
”نگاہ لذت شیطان کے زہر آلودہ تیروں میں سے ایک تیر ہے، کتنی ہی ایسی نگاہیں ہیں جو اپنے ساتھ حسرت اور تاسف لاتی ہیں۔“ (وسائل الشیعہ)
ایک اور حدیث میں ہے کہ:
”نگاہ لذت دونوں آنکھوں کا زنا ہے۔“ (اصول کافی)
ایک اور حدیث میں رسول خداؐ فرماتے ہیں کہ:
”خدا لعنت کرے بری نگاہ ڈالنے والے پر اور اس کی دعوت دینے والے پر۔“
بہت سی آیات میں بھی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے:
اے رسولؐ آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں۔ (سورہ نور، آیت 30)
”اور مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں۔(سورہ نور، آیت 31)
آیت کے معنی یہی ہیں کہ جس عضو کی طرف مطلقاً دیکھنا ناجائز ہے وہاں اسے اصلاً نہ دیکھیں اور جس کو فی نفسہ دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے نہیں، اس کو شہوت سے نہ دیکھیں۔
بوڑھے ودیندار بھی اس گناہ میں مبتلا ہیں
بدنگاہی تو وہ گناہ ہے کہ جس سے بوڑھے اور دیندار افراد بھی مستثنیٰ نہیں ہیں اور اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ بدکاری کے لئے بڑے اہتمام کرنے پڑتے ہیں۔
۱۔ جس سے وہ فعل کیا جائے وہ راضی ہو۔
۲۔ روپیہ بھی پاس ہو۔
۳۔ شرم و حیا بھی مانع نہ ہو۔
۴۔ یہ خوف نہ ہو کہ کسی کو اطلاع ہوگئی تو کیا ہوگا۔
۵۔ کسی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی بیماری نہ لگ جائے۔
۶۔ ہمت بھی ہو۔
اس کے مقابلے میں بد نظری کے لئے کسی سامان کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس میں پیسے کی ضرورت ہے نہ بدنامی کا خوف کیونکہ اس کی خبر تو صرف پروردگار عالم کو ہے کہ کیسی نیت ہے؟
اہل کشف و اہل عرفان علماء نے لکھا ہے کہ بدنگاہی سے آنکھوں میں ایک ایسی ظلمت پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کو تھوڑی سی بھی بصیرت ہوگی پہچان لے گا کہ اس کی نگاہ پاک نہیں ہے لیکن عارفین کسی کے لئے کچھ کہتے نہیں ہیں بلکہ عیب پوشی کرتے ہیں۔
آیت میں ہے:”جس شے کو سینہ میں وہ لوگ چھپاتے ہیں خدا اس کو بھی جانتا ہے۔“
تو علماء فرماتے ہیں کہ یہ دل کے گناہ کے متعلق ہے کیونکہ گناہ صرف آنکھوں سے ہی سے نہیں ہوتا دل سے بھی ہوتا ہے۔ جس طرح بہت سے لوگ عورتوں اور مردوں کے متعلق سوچ کر لذت لیتے ہیں۔
بعض دیندار افراد صرف نگاہ نہ کرنے پر ہی خود کو صاحب مجاہدہ سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ نگاہ کرنے سے بہرحال ان کی توہین سمجھی جاتی ہے جب کہ دل میں تمتع اور حظ اٹھاتے ہیں تو پھر مجاہد نفس کہاں رہا؟ (غور کیجئے)
آنکھوں کے گناہ کو تو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے چاہے نیت پر مطلع نہ بھی ہو لیکن دل کے اندر سوچنے کے فعل کو کوئی نہیں دیکھ سکتا اور اس کی اطلاع سوائے پروردگار عالم کے کسی کو نہیں ہو سکتی اور اس سے وہی بچ سکے گا کہ جس کے دل کے اندر تقویٰ ہو۔
بدنظری ایک ایسا مہلک مرض ہے کہ انسان اس سے نہیں بچتا بخلاف دوسرے معاصی کے کہ ان سے سیری ہو جاتی ہے اور آدمی چھوڑ دیتا ہے لیکن اس سے سیری نہیں ہوتی اور جب یہ صادر ہوتا ہے تو اور زیادہ تقاضا ہوتا ہے۔ آدمی کھانا کھانے سے سیر ہو جاتا ہے، شراب پیتا ہے اور سیر ہو جاتا ہے۔ مگر یہ بد نظری ایسی بلا ہے کہ اس سے سیری نہیں ہوتی اس وجہ سے یہ تمام گناہوں سے بڑھ کر ہے۔
کیا بد نظری سے بچنا ناممکن ہے؟
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ:
جب یہ اتنی عام سی چیز بن گئی ہے اور ابتلائے عام ہے اور شاید ہی ہزاروں میں سے کوئی ایک اس سے بچا ہو تو اب اس سے بچنا تو ناممکن ہوگیا ہے۔
فرض کریں اگر کہیں سیلاب آگیا ہو جس میں سب بہتے جارہے ہوں تو اگر کوئی شخص تیرنا جانتا ہے یا کسی طریقے سے بچ سکتا ہے تو وہ یہ سمجھ کر کہ سیلاب میں تو سب ہی بہتے جارہے ہیں، نہ بچے تو کیا یہ صحیح ہوگا؟ جب کہ سیلاب سے تو زیادہ سے زیادہ موت ہی آئے گی اس سے زیادہ تو کچھ نہ ہوگا لیکن بدنظری کے سیلاب میں اگر ہم بہہ گئے تو آخرت کا ختم نہ ہونے والا عذاب دامن گیر ہو جائے گا۔
جوانی کی نعمت کو نظر بازی میں ضائع نہ کریں
رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کوئی شخص اپنی جگہ سے قدم آگے نہیں بڑھاسکے گا جب تک کہ اس سوال کا جواب نہ دے کہ زندگی کن کاموں میں گزاری ہے اور جوانی کیسے اور کس راستے میں گزاری ہے؟
امام صادق ؑ فرماتے ہیں کہ لقمان ؑنے اپنے بیٹے کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بیٹے قیامت کے دن حساب کے لئے دربار خدا میں جب حاضر ہوں گے تو چار چیزوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ پہلا یہ کہ اپنی جوانی کو کہاں خرچ کیا، دوسرا یہ کہ اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری، تیسرا یہ کہ مال کیسے حاصل کیا اور چوتھا یہ کہ اپنے کمائے ہوئے مال کو کہاں خرچ کیا؟ امام صادق ؑ نے اپنے اجداد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت فرمائی ہے کہ اپنی سلامتی، قدرت، فراغت، جوانی، نشاط اور بے نیازی کو فراموش نہ کریں۔ دنیا میں ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور متوجہ رہیں کہ آخرت کا معنوی عظیم سرمایہ انہی چیزوں سے استفادہ کرنا ہے۔
رسول اللہؐ نے فرمایا کہ فرشتہ الہٰی ہر رات۰۲سالہ نوجوانوں کو نداء دیتا ہے کہ اپنی سعادت اور کمال کو پانے کے لئے سرتوڑ کوشش کریں۔
نوجوانوں کے لئے یہ بات بہت کمال کی ہوگی کہ بدنظری کے گناہ سے توبہ کرلیں۔ رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ گناہ سے توبہ ہمیشہ پسندیدہ ہے لیکن جوانی میں زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے۔
اپنے تقویٰ پر اعتماد نہ کریں
بعض اوقات شیطان بعض دیندار افراد کو بھی پٹی پڑھا تا ہے کہ بری نگاہ سے دیکھنا حرام ہے لیکن پاک اور اچھی نگاہ سے دیکھنا تو جائز ہے۔
مگر اس سے بد نظری کی گنجائش نکالنا دراصل خود اپنے نفس کو دھوکہ دینا ہے۔ بعض اوقات نامحرم کو دیکھ دیکھ کر بعض لوگوں کو برے خیالات نہیں آتے مثلاً دیندار افراد کو لیکن ان کی آنکھوں کو زنا کا لطف آتا رہتا ہے اور وہ نادان یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری نظر پاک ہے لیکن شیطان ایسے مومن کو بدھو اور بیوقوف بنائے رکھتا ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ SlowPoison (زہر) اس کے دل میں غیر شعوری طور پر پیوست کرتا رہتا ہے۔ ابلیس سے تو یہاں تک حکایت بیان کی جاتی ہے کہ اگر کوئی عارف اور عارفہ بھی ایک ساتھ تنہائی میں وقت گزاریں تو میں ان کا بھی تقویٰ توڑ دوں۔ جبھی شہید مطہری ؒ بھی فرماتے ہیں کہ ”انسان ہر گناہ کے مقابلے میں اپنے تقویٰ پر بھروسہ کر سکتا ہے سوائے جنسی لذتوں کے باب میں۔“ کہ اس میں تقویٰ کی طاقت اکثر بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔جب ہی عورتوں کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارنا پرہیزگاری کے باوجود حرام ہے اگر اس خلوت کی جگہ پر کوئی نہ آسکتا ہو اور حرام میں پڑنے کا اندیشہ بھی ہو۔
کیونکہ نامحرم سے کسی بھی طرح سے تنہائی میں ملنے سے اگر بدنظری اور حرام سے بچ بھی جائے گا تو بھی بدگویوں اور بدگمانیوں سے نہ بچ سکے گا یعنی لوگ تہمت سے بدنام کرکے رہیں گے۔ مشہور ہے کہ ”تہمت کی جگہوں سے بچو“۔
لہٰذا انسان کبھی بھی اپنی پاکدامنی پر بھی ناز نہ کرے کہ میں بھلا اس مرض میں کہاں مبتلا ہو سکتاہوں حضرت یوسف ؑتک نے کہہ دیا تھا:
نفس نہایت برائی کا حکم دینے والا ہے۔(سورہ یوسف آیت 53)
جبھی علماء بھی فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر ڈرنے والی کوئی چیز ہے تو وہ خود انسان کا اپنا نفس ہے۔ جبھی عورتوں کو دل میں جگہ دینا اور دل کو خدا کی محبت سے محروم کرنا کس قدر افسوسناک ہے اور خدائے عزو جلال کے حسن بے مثال کو چھوڑ کر ان مردہ ناپائیدار صورتوں پر عاشق ہونا کیسی ناسمجھی کی بات ہے کہاں وہ نور آفتاب کہاں یہ مردہ چراغ۔


































