مسلم دنیا ابھی ایک جھٹکے سے سنبھل نہیں پاتی ہے کہ اس کیخلاف کوئی سازش یا نیا فتنہ پیدا کردیا جاتا ہے ،اب کی بار اس نئے فتنے نے پڑوسی ملک ہندوستان میں سر اٹھا یا ہے اور اس بار وار ذات رسول (ص) ،اصحاب یا ائمہ پر نہیں براہ راست دین کی اساس قران پر حملہ کیا گیا ہے،نئے دور کے وسیم رشدی نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اور اس میں قران کی جہاد سے متعلق 28 آیات سے متعلق موقف اختیار کیا ہے کہ یہ آیات دہشت گردی کا سب سے بڑا سبب ہیں لہذا انہیں قران سے نکالا جائے(نعوذ بااللہ ) ، اس کے بعد مسلمانوں کا مشتعل ہونا ایک فطری عمل ہے، بھارت میں جگہ جگہ مظاہرے ہوئے اور ملعون وسیم رشدی کو گرفتار کرنے اور اس کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا، ماضی میں بھی وسیم رشدی جیسے مختلف فتنہ اٹھتے رہے ہیں،1988میں برطانیہ میں سلمان رشدی نے شیطانی آیا ت نامی کتاب لکھ کر پوری مسلم دنیا میں غم وغصہ کی لہر دوڑا دی تھی جس کیخلاف بانی انقلاب اسلامی امام خمینی نے تاریخی فتوی دیکر ملعون کو جان بچانے کیلئے گوشہ نشین ہونے پر مجبور کردیا تھا ،1988میں اور آج میں فرق یہ ہے کہ اس بار قران پر حملہ کرنے والا شیعہ مسلک کے لبادے میں سامنے آیا ہے ،جس سے تکفیری سوچ رکھنے والوں کو امت مسلمہ میں پھوٹ ڈالنے کا ایک اور موقع ملے گا،وہ ملعون وسیم رشدی کی درخواست کو لیکر گمراہ کن پروپیگینڈا کررہے ہیں تاہم بھارت میں تمام مکاتب فکر کے علما نے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے آل انڈیا مجلس علمائے ہند کے جنرل سیکرٹری مولانا سید کلب جواد نے ملعون کو اسلام سے خارج قرار دیکر تکفیریوں کے پروپیگینڈے کے سامنے بند باندھ دیا ہے لیکن پاکستان میں شرپسند عناصر اس معاملہ کو جواز بناکر شیعہ مکتب پر کیچڑ اچھالنے سے باز نہیں آرہے ہیں ،تاہم اس سوچ کو پذیرائی نہیں مل رہی ہے علمائے کرام نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے،وسیم رشدی کے باطل عقیدے اور اللہ کے کلام کی تردید کو شیعہ فقیہ، مجتہد اور عالم، کفر قرار دیتا ہے اور اسلام سے کھلی دشمنی سمجھتا ہے، اسلام کے چہرہ کو مسخ کرنے کے لئے جو کردار اِس سے پہلے سلمان رشدی ملعون اور تسلیمہ نسرین ملعونہ نے ادا کیا، وہی کردار آج وسیم رشدی ملعون ادا کر رہا ہےان سب ملعونوں کی پشت پر وہی طاقتیں کارفرما ہیں، جو پوری دنیا میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر اللہ کے دین کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں،مکتبِ تشیع نے اس خباثت کے مقابلے میں سب سے زیادہ بیداری، آگاہی اور شعور کا مظاہرہ کیا اور اس معاملہ پر پاکستان اور ہندوستان سمیت دنیا بھر کے تمام شیعہ علما، دانشور وں اور اکابرین کے یکساں موقف اور بیانیہ نے ا س ہندو صیہونی گٹھ جوڑ اور سازش کو ناکام بنا دیا، جس کی کامیابی کا خواب اسلام دشمن طاقتیں دیکھ رہی تھیں، جس طرح مسلمانوں نے اپنے اتحاد سے اس بھیانک سازش کو ناکام بنایا ہے اسی طرح تمام مسلمانوں کو اپنی صفوں میں بھائی چارے، محبت اور وحدت کی فضا قائم رکھنا چاہئے، کیونکہ ہم اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے سے ہی ایسے یہودی و ہندوانہ فساد اور سازش کا مقابلہ کرسکتے ہیں


































