امریکا اپنی تمام تر کوششوں، دھمکیوں اور لالچ کے باجود ایران کیخلاف اسلحہ پابندیوں کی مدت میں توسیع کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا، سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے سوائے ایک ملک کے کسی نے بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا اور امریکا کی یہ قرارداد ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی یہ امریکا کی جانب سے آخری کوشش تھی جس میں ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت میں توسیع کیلئے کی گئی جو مکمل طور پر ناکام رہی، اور 18 اکتوبرکو ایران پر عائد اسلحہ جاتی پابندیں ختم ہوگئیں، اپنی کوششوں میں ناکامی کے بعد امریکا نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ان تمام ممالک پر پابندیاں لگائے گا جو ایران کو اسلحہ بیچیں گے یا خریدیں گے، امریکا کا یہ اعلان بتاتا ہے کہ وہ مسلسل رسوائی اور تنہائی کے باجود اپنی خو چھوڑنے کو تیار نہیں، ایران کی امریکا کیساتھ دشمنی اور امریکا کی طرف سے ایران کو زیر کرنے کی خواہش کوئی نئی بات نہیں رہی، اس دشمنی کا آغاز 1979 میں انقلاب اسلامی برپا ہونے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، امام خمینیؒ کی زیرقیادت انقلاب اسلامی نے خطے میں امریکا اور اسرائیل کی سب سے بڑی مددگار شاہ ایران کی ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کو اکھاڑ پھینکا، امریکا انقلاب کوناکام بنانے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا یہاں تک کہ اپنے پٹھو صدام کے ذریعے جنگ مسلط کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، یہ سازشیں بالکل ایسی ہی تھیں جیسے عرب بہاریہ کی تحریک میں تیونس، لیبیا اور مصر سمیت مختلف ممالک میں عوام نے امریکا کی پٹھو حکومتوں کو نکال باہر کیا لیکن یہ انقلابات اس لئے قائم نہ رہ سکے کہ ان ممالک کے قائدین امریکی سازشوں کے سامنے پل باندھنے میں ناکام رہیں جس کا نتیجہ ان ممالک میں دوبارہ آمریت کے قیام کی صورت میں نکلا، ان آمریتوں کی پشت پناہی یا تو امریکا اور اس کے اتحادی کررہے ہیں یا پھر یہ ممالک بدترین داخلی انتشار اور خانہ جنگی کا شکارہوگئے، لیکن ایران کی خوش قسمتی رہی کہ یہاں امام خمینیؒ ایسا نظام قائم کرگئے جو ان کے جانے کے بعد بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ ہر گذرتے دن کے ساتھ کامیابی کی منازل طے کررہا ہے، امام خمینیؒ نے ہم فکر انقلابی علما اور امور مملکت چلانے کے ماہرین تیار کئے، جنہوں نے امریکا اور اس کے حواریوں کی تمام تر سازشوں کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ایک باغیرت و شجاع قوم کی طرح اپنی ملی و قومی غیرت پر آنچ نہ آنے دی اور امریکا کو ہر میدان میں ترکی بہ ترکی جواب دیتے رہے اور آج تک دیتے آرہے ہیں،تمام ناکامیوں کے بعد امریکانے دھمکایا ہے کہ وہ ایران جو روایتی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا،لیکن احمق امریکی حکمران یہ بات بھول جاتے ہیں کہ چار دہائیوں سے عائد پابندیوں نے ایران کو کئی شعبوں میں خودکفیل بنادیا ہے جس میں روایتی ہتھیاروں کا شعبہ بھی شامل ہے، ایران لمبی رینج والے میزائل بھی بنا رہا ہے جو اسرائیل تک کو براہ راست نشانہ بناسکتے ہیں، اس وقت اصل جنگ شائد سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اس شعبہ میں بھی ایران کئی بار امریکا پر اپنی برتری ثابت کرچکا ہے ،ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی بھی انتہائی پیشرفتہ ہے جس کا مظاہرہ یمن میں کئی بار کیا جاچکا ہے،ایرانی حکام نے برملا کہا ہے کہ انہیں روایتی ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہیں،لہذا امریکا کو اس معاملے میں بھی ناکامی سے ہی دوچار ہونا پڑے گا، آج کا امریکا پہلے سے بہت کمزور ہو چکا ہے،اس کے کئی ساتھی اور روایتی حلیف ساتھ چھوڑ چکے ہیں ،ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایران اور مقاومت اسلامی کی قوتیں فتح و کامیابی کا پرچم سربلند کرتے ہوئے غالب آرہی ہیںاور ظالمین اپنے منصوبوں سمیت غرق و نابود ہوجائیں گے


































