پاپائے روم پوپ فرانسس عراق کا تاریخی دورہ کرکے واپس ویٹی کن چلے گئے ان کا تین روزہ قیام مختلف مقامات کے دورے، خطابات اور تقاریرپر مبنی رہا ، لیکن ان سب سے بڑھ کر ان کی عراق کے بزرگ مرجع آیت اللہ علی سیستانی سے تاریخی ملاقات رہی، پاپائے روم کے دورے کے ظاہری مقاصد تو واضح ہیں کہ وہ امن کا پیغام لیکر نکلے تھے اور ان کا سب سے بڑا مطمع نظر اس عیسائی برادری کے زخموں پر مرہم رکھنا تھا جسے داعشی درندوں نے بے رحمانہ بربریت کا نشانہ بنایا اور اسے اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی ، امن کے واضح پیغام کے باوجود دورے سے متعلق عالمی اور خاص طور پر اسلامی دنیا کا میڈیا جتنے منہ اتنی بات کی تصویر بنا رہا ،کسی نے دعویٰ کیا کہ یہ خطے میں قدم مضبوط کرنے کی امریکی چال ہے تو کسی نے اس میں ا یرانی حکومت کے مقابل عراق کی مرجعیت کو کھڑا کرنے کا نکتہ ڈھونڈ لیا، کچھ نے تو اسے صلیبی جنگوں کی نئی روش تک کہہ ڈالا ،لیکن اگر اس دورہ اور خاص طور پر بزرگ مرجع سید علی سیستانی سے ملاقات کو دیکھا جائے تو اسے ایک جملے میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ مباہلہ کے میدان سے گھر میں مہمان بننے تک کا سفر ہے ،مباہلہ میں عیسائیوں نے جس آل رسول کے ساتھ مقابلے سے انکار کردیا تھا آج اسی عیسائیت کا سب سے بڑا رہنما اسی علی کے بیٹے کے گھر مہمان بن کر پہنچ گیا،عیسائیوں کے مرکز ویٹی کن کی یہ تاریخ ہے کہ پوپ نے کبھی کسی کے گھر جاکر ملاقات نہیں کی یہ پہلی بار ہے کہ پاپائے روم نجف کی تنگ گلیوں میں پیدل چلتے ہوئے عالیقدر مرجع کی قدم بوسی کیلئے پہنچے، اور ایک بوریا نشین کا رہن سہن دیکھ کر حیران رہ گئے ، پوپ نے واپسی کے سفر میں عراقی صدر کے نام خط لکھ کر آیت اللہ سیستانی کی عظمت اور روحانیت کا اعتراف بھی کیا،اس تاریخی ملاقات نے دنیا کو ایک نہیں کئی پیغام دے ڈالے ، خطے میں عراق کی تباہ شدہ ساکھ بحال ہوئی اور عرب بادشاہوں کو واضح پیغام گیا کہ عراق میں بادشاہت اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں ، عراق میں جمہوریت اور سیاسی بیداری کا سفر شروع ہوچکا ہے، پو پ کے دورے نے عراق میں خوفناک ماحول سے متعلق منفی تاثر کو ذائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ایسے خوفناک ماحول میں اتنی اہم شخصیت کا اتنا پرسکون اور آرام دہ دورہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کیلئے واضح پیغام کی حیثیت رکھتا ہے، عراق میں اقلیتوں کے محفوظ ہونے کا پیغام گیا ، دنیا پر واضح ہوگیا کہ نہتے لوگوں پر خودکش حملے کرنے والے، لوگوں کی گردنیں کاٹنے والے، عبادت گاہوں اور اقلیتوں پر شب خون مارنے والوں کا عراقی عوام اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، امید کی جانی چاہیے کہ پوپ فرانسس کے دورہ عراق اور خاص طور پر بزرگ مرجع سے ملاقات سے یورپی ممالک کے لوگ اور دنیا کے دیگر ملکوں کے لوگ بھی سمجھیں گے کہ ’دشمنی، انتہا پسندی اور تشدد مذہبی دل میں پیدا نہیں ہوتیں، یہ مذہب کے لیے دھوکہ ہیں۔ReplyReply allForward