
طالبان کو تشدد میں کمی لانے کے لیے مجبور کیے بغیر فوجیوں کا انخلا شروع کیا گیا تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے،امریکی اسٹیڈی گروپ کی سفارش
امریکا افغان جنگ میں مزید سرمایہ کاری ختم کرے، نئی حکومت امن معاہدے سے پیچھے ہٹی تو پھر بڑی جنگ ہوگی،جو کسی کے مفاد میں نہیں، طالبان کی دھمکی
کابل/واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکا کی جانب سے فوجی انخلا اوردوحہ معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کے باعث افغانستان میں ایک بار پھر خوفناک جنگ کے بادل منڈلانے لگے ، امریکا میں حکومت بدلتے ہی امن معاہدے میں دراڑیں آنا شروع ہو گئی ہیں اور امریکا کالہجہ بدلنے پر طالبا ن نے بھی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں، طالبان نے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ نئی حکومت فروری 2020 میں طے پانے والے امن معاہدے سے پیچھے ہٹی تو پھر بڑی جنگ ہوگی ،اس سے پہلے امریکا کے افغانستا ن ا سٹڈی گروپ نے ایک رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ نئی امریکی انتظامیہ افغانستان سے فوج واپس بلانے سے قبل طالبان کو تشدد میں کمی لانے کے لیے سختی سے پابند کریں ، گروپ نے خبردار کیا تھاکہ اگر طالبان کو تشدد میں کمی لانے کے لیے مجبور کیے بغیر فوجیوں کا انخلا شروع کیا گیا تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے جس کا فائدہ ا ±ٹھاتے ہوئے القاعدہ بھی متحرک ہو سکتی ہے،امریکا فوجی انخلا کو تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات میں پیش رفت سے منسلک کرے ، طالبان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ معاہدے میں طے کی گئی شرائط پوری نہیں کر رہے ، طالبان نے نئی امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معاہدے کو جذباتی انداز سے نہ دیکھیں، اور اس کی بجائے افغان جنگ میں مزید سرمایہ کاری ختم کریں پہلے جیسی حالتِ جنگ میں واپس جانا نہ تو امریکا اور نہ ہی افغان عوام کے مفاد میں ہے،طالبان کی جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ فوج کے انخلا کی یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد غیر ملکی افواج پر حملے شروع کر دیں گے، امریکا کو افغان جنگ میں کامیابی طالبان کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے دریں اثنا افغانستان کی اعلی قومی مصالحتی کونسل کے رکن یونس قانونی نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ اگر مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو اس گروہ کا مقابلہ کرنے کے لئے متحدہ قومی منصوبے پر عمل شروع کر دیا جائے گا


































