| امریکا میں تین نومبر کو پولنگ مکمل ہونے کے بعد تادم تحریر مکمل انتخابی نتائج نہیں آسکے،آخری لمحات تک اگر مگر ہوتی رہی اور پھرامریکی میڈیا نے جوبائیڈن کی جیت کا اعلان کرڈالا ،اب وہ وائٹ ہاوس کا انتظام سنبھالنے کی تیاری کررہے ہیں لیکن دوسری جانب انہیں ایک گھمنڈی اور نسل پرست شخص کی جانب سے بڑی رکاوٹ بھی درپیش ہیں ،ٹرمپ شائد پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے نہ صرف انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا نعرہ لگایا بلکہ اقتدار چھوڑنے پربھی تیار نہیں،امریکا میں اس بار جس طرح انتخابی مذاق ہوا اس نے ایک جانب تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے الیکشن یاد دلادئے جن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی، پولیٹیکل انجینئرنگ اور مبصرین کوگنتی کے مقام سے دور رکھنے جیسے الزامات لگائے جاتے ہیں بلکہ اس صورتحال نے امریکی جمہوریت کاپردہ بھی چاک کردیا ،جس نے زوال پزیر امریکی نظام کے عیب چھپا رکھے تھے، پاکستان سمیت مختلف ترقی پزیر ملکوں میں آمرانہ مداخلتوں کی وجہ سے جمہوریت بہت کم پھل پھول سکی اس لئے یہاں کی صورتحال کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے لیکن امریکا تو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے جو خود کو جمہوریت کا چیمپئن بھی قرار دیتا ہے ایسے ملک میں انتخابات پر انگلیاں اٹھنا اور وہ بھی ملک کے صدر کی جانب سے اس نظام کی شکست وریخت کی علامت ہے، پاکستان میں نوازشریف اگر اداروں پر الزامات اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں ،تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر امریکا میں یہ سب ہوتوسوچناپڑتا ہے کہ شائد امریکی نظام کی دکھائی جانیوالی تصویر کا اصل رخ یہ نہیں،دوجماعتی نظام نے امریکی معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے حالانکہ ان دونوں جماعتوں کے نظریات میں کوئی خاص فرق نہیں ، بس کنزرویٹو اور لبرل کی عمومی تقسیم نظرآتی ہے ، دونوں ہی سرمایہ داروں کے مفادات کی نگراں ہیں اور یہ ان کی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ غلام بنی ہوئی ہیں،ری پبلکنز ہوں یا ڈیموکریٹس دونوں ہی کی باگ ڈور مقتدر قوتوں کے ہاتھ میں ہیں ،اگر ٹرپ رخصت ہورہے ہیں تو امریکا اپنے روایتی عالمی سامراجی کردار کی طرف پلٹ جائے گا ،وہ دوبارہ نیٹو، ڈبلیو ٹی او، ڈبلیو ایچ او اور یواین کے اداروں کا حصہ بن جائے گا ، مبینہ طور پر ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ بحال ہوجائے گا،چین کے ساتھ تجارتی معاملات سخت گیری کا شکار ہوں گے ،فلسطین کی امداد بحال ہوجائے گی ،یہ سب اس لئے ہوگا کہ دنیا کے سامنے انتخابی مذاق سے جو جگ ہنسائی ہوئی ہے اور ساکھ برباد ہوئی ہے اسے بحال کیا جاسکے،ٹرمپ نے امریکی معاشرے میں اتنی نفرت اور خوف پھیلا رکھا تھا اور قوم کو گورے اور کالے کی تقسیم کو اس حد تک لے گئے تھے کہ جوبائیڈن کی فتح کے اعلان پرامریکیوں نے سکھ کاسانس لیا ہے، جوبائیڈن کی کامیابی امریکیوں کیلئے ضروراچھی خبر ہوسکتی ہے لیکن دنیا کے مختلف ممالک اسے اپنی اپنی عینک سے دیکھ رہے ہیں،ان کے اقدامات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ جوبائیڈن کا انتخاب دنیا کیلئے کتنا بہتر ثابت ہوا ہے۔ |


































