
ایٹمی معاہدہ کے تحت ایران پر عائد اسلحہ کی پابندیاں 18 اکتوبر سے ختم ہوگئیں،ہتھیار خریدنے میں آزاد ہوگئے ، دفاعی ضروریات کو پورا کرینگے ،ایران
امریکا ذاتی طور پر کسی ایسے فرد یا ریاست کے خلاف پابندی لگائے گا جو ایران کے ساتھ روایتی اسلحہ کی فراہمی، فروخت اور منتقلی میں تعاون کرے گا ، امریکی دھمکی
تہران (نیوز ڈیسک) امریکا کی تمام دھمکیاں اور دباو ¿ رائیگاں چلے گئے ،ایران پر برسوں سے عائد اسلحہ کی پابندی ختم ہوگئی،ایران نے اسے اپنی بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے جبکہ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ ایران کو اسلحہ بیچنے یا خریدنے والے ملک پر بھی پابندی لگادینگے،تفصیلات کے مطابق 2015 میں امریکا، فرانس، برطانیہ، چین، روس اور جرمنی کیساتھ ایٹمی معاہدہ کے تحت ایران پر عائد اسلحہ کی پابندیاں 18 اکتوبر سے ختم ہوگئیں،ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی قانونی پابندی کے بغیر کسی سے بھی ضروری ہتھیار اور سامان حاصل کرسکتا ہے جو اس کی دفاعی ضروریات کو پورا کرے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا کہ ایران کو اسلحہ کی فروخت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی جس کے ردعمل میں اس کے خلاف بھی پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں ا امریکا ذاتی طور پر کسی ایسے فرد یا ریاست کے خلاف پابندی لگائے گا جو ایران کے ساتھ روایتی اسلحہ کی فراہمی، فروخت اور منتقلی میں تعاون کرے گا ۔ ٹرمپ حکومت نے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد بھی پیش کی جس میں ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیاں جاری رکھنے کی بات کی گئی تھی تاہم سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین میں سے تیرہ نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔


































