امریکا نے ایران کیخلاف تمام عالمی اداروں میں شرمناک پسپائی کے بعد اپنی سازشوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کیخلاف قرارداد پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ، 7مارچ سے ہونے والے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں جو قرار دادپیش کی جائے گی اس کا مسودہ بورڈ آف گورنرز کے ارکان میں تقسیم کیا گیا ہے،قرارداد میں بظاہر تو کہا گیا ہے کہ اگر ایران ایٹمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد شروع کردے تو امریکا بھی اس سے ملتے جلتے اقدامات کیلئے تیار ہے ،اگر یہ قرارداد منظور ہوگئی تو امریکا کو ایٹمی معاہدہ میں شامل نہ ہونے کا قانونی جواز مل جائے گا ،چونکہ ایران معاہدے پر عملدرآمد نہیں کررہا ہے لہذا امریکا کا بھی ایسا کرنا درست ہے قرارداد کے مسودہ کو دیکھتے ہوئے ہی ایران نے اپنے خلاف کسی قرارداد کی منظوری پر سخت ردعمل کا انتباہ کردیا ،ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئی اے ای اے نے ایران کیخلاف کوئی قرارداد پاس کی تو اس کا ویسا ہی جواب دیا جائے گا ایک جانب تو امریکا اپنی سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف ہے تو دوسری جانب یورپی یونین خاص طور پر برطانیہ ،فرانس اور جرمنی اس کی کاسہ لیسی میں تمام حدیں پار کرنے پر تیار ہیں ایک جانب تو ان ممالک نے امریکی اشارے پر خود بھی معاہدہ پر عمل نہیں کیا اور دوسری جانب امریکا کی بھی درپردہ حمایت کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ ایران کو معاہدہ کرکے بھی کسی قسم کا ریلیف نہیں مل سکا، وہ اسی طرح غیر انسانی پابندیوں میں جکڑا رہا ،یہاں تک کہ عالمی وبا کے باوجود اسے ادویات خریدنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ،یورپی یونین نے مذاکرات مذاکرات کھیلنے کا طریقہ اختیار کئے رکھا اور اب ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے نام پر نیا کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزب بورل نے یورپی ممالک اور ایران کے ایک غیر رسمی اجلاس کی دعوت دی اور پیشکش کی کہ اس میں امریکا کو بھی شریک کیا جائے تاکہ ایٹمی معاہدہ پر اختلافات کو دور کیا جاسکے لیکن ایران نے یورپی یونین کی اس سازش کو پہلے ہی مرحلے میں الٹ دیا، وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ہمیں عملی طور پر امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے، امریکا اور تین یورپی ممالک کے حالیہ اقدامات کے بعد غیر رسمی اجلاس کا وقت مناسب نہیں، کیونکہ یہ وقت باتوں کا نہیں عمل کا ہے،اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا شدید ترین مایوسی کا شکار ہوچکا ہے ایران کے خلاف دباو ڈالنے کے تمام تر ہتھکنڈے ناکام ہوچکے ہیں اور اب اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کیلئے اور ایران سے اپنی بات منوانے کیلئے مذاکرات کا کھیل کھیلنا چاہتا ہے یورپی یونین ایران کو مذاکرات کے نئے جال میں پھنسانے کیلئے پوری طرح امریکا کی ہمنوا بنی ہوئی ہے ان سازشوں کو ایرانی حکام خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں امریکا اور یورپ کی پالیسیوں سے نمٹنے ہوئے انہیں چار عشرے گذر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سفارتکاری اور مذاکرات کے خوشنما چہرے کے پیچھے کیا سازش چھپی ہوئی ہے ۔


































