٭……اجنبی: برخوردار جب بس ریگل چوک پر پہنچے تو مجھے بتا دینا۔
لڑکا: بتانے کی اس میں کونسی بات ہے بس دیکھتے جائیے جہاں میں اتروں اس سے دو اسٹاپ پہلے اتر جائیے۔
O…………٭٭٭…………O
٭……استاد نے کلاس میں پوچھا ”جو بچے جنت میں جانا چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کردیں۔“
ایک لڑکے کے علاوہ پوری کلاس نے ہاتھ اٹھا دیئے۔
استاد نے پوچھا: کیوں بھئی تم جنت میں جانا کیوں نہیں چاہتے۔
اس نے جواب دیا: دراصل میری امی نے کہا تھا کہ اسکول سے واپسی پر سیدھے گھر آنا۔
O…………٭٭٭…………O
٭……گاہک (دکاندارسے) جناب آپ نے کھجوروں پرکمبل کیوں ڈالا ہوا ہے۔
دکاندار(گاہک سے) جناب یہ کمبل نہیں مکھیاں ہیں۔
O…………٭٭٭…………O
٭……ایک دیہاتی شہر گیا اور ایک لڑکے سے پوچھا ہوٹل کہاں ہے؟ شریر لڑکے نے اس کو عدالت دکھادی اور کہا وہ ہوٹل ہے۔
دیہاتی اندر گیا عدالت میں: جج نے کہا آرڈر آرڈر۔ دیہاتی نے کہا تین روٹیاں اور ایک پلیٹ سالن۔
O…………٭٭٭…………O
٭……ایک دو ا فروش ہجوم میں اپنی دوا کی بڑی تعریف کررہا تھا۔ اس نے کہا حضرات یہ دوا بیس سال سے فروخت کررہا ہوں لیکن یقین کریں کہ آج تک کسی نے شکایت نہیں کی۔
ہجوم میں سے ایک آواز آئی جی ہاں مردے شکایت نہیں کرتے۔
O…………٭٭٭…………O
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- ؐسکراھتے
ؐسکراھتے
-
Ilyas - مارچ 13, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 4
- 1 minute read


































