امام جعفر صادق ؑنے ہزار دینار کی رقم اپنے غلام مصادف کے حوالے کرتے ہوئے اس سے کہا۔”یہ ہزار دینار لو اور تجارت کی غرض سے مصر کے سفر کے لئے آمادہ ہو جاؤ۔“
مصادف نے اس رقم سے مصر کے بازار میں زیادہ بکنے والی چیزیں خریدیں اور تاجروں کے قافلے کے ساتھ مصر کی جانب روانہ ہوگیا۔
جیسے ہی یہ لوگ مصر کے قریب پہنچے ان کی ملاقات تاجروں کے ایک دوسرے قافلے سے ہوئی جو مصر سے واپس آرہا تھا۔ دونوں قافلے کے تاجروں نے ایک دوسرے کی مزاج پرسی کی اور گفتگو کے دوران انہیں یہ معلوم ہوا کہ تجارتی سامان جو ان کے پاس موجود ہے وہ مصر کی بازار میں بالکل نایاب ہے۔ دولت مند تاجر یہ خبر سنتے ہی اپنی خوش قسمتی پر فخر کرنے لگے۔ انہیں اندازہ تھا کہ ان کا تجارتی مال عام لوگوں کی ضرورت میں کام آنے والا ہے۔ لہٰذا بازار میں اس مال کی کمی کی وجہ سے لوگ ان کے سامان کو زیادہ سے زیادہ قیمت پر خریدنے کے لئے مجبور ہیں۔ اس طرح انہیں اپنے مال کی منہ مانگی قیمت مل جائے گی۔
چنانچہ سبھی تاجروں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ ہم لوگ سو فیصد منافع سے کم میں اپنا مال نہیں فروخت کریں گے۔ جیسے ہی یہ لوگ سرزمین مصر میں داخل ہوئے انہیں فوراً ہی معلوم ہوگیا کہ راہ میں ملنے والی اطلاع بالکل سچ ہے۔ باہمی عہد وپیمان کی رو سے ان تاجروں نے کالا بازاری کا ماحول پیدا کردیا اور کسی نے بھی دوگنا قیمت سے کم میں اپنا مال فروخت نہ کیا۔ چونکہ بازار میں اس مال کی کمی تھی اور ضرورت زیادہ لہٰذا کچھ ہی دنوں میں ان کا سارا مال دوگنی قیمت پر بھی فروخت ہوگیا۔
دیگر تاجروں کی طرح مصادف بھی ہزار دینار خالص منافع لئے ہوئے مدینہ واپس آگیا۔ وہ خوشی خوشی امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہزار ہزار دینار کی دو تھیلیاں ان کے سامنے رکھ دیں امام ؑ نے مصادف سے پوچھا:”یہ کیا ہے؟“ مصادف نے جواب دیتے ہوئے کہا۔”ان میں سے ایک وہ سرمایہ ہے جو آپ ؑ نے میرے سپرد کیا تھا اور دوسری تھیلی میں منافع کی رقم ہے جو اصل سرمایہ کے برابر ہے۔“
امام ؑ نے کہا۔”مصادف! منافع تو بہت زیادہ ہے۔ ذرابتاؤ کہ اتنا زیادہ منافع تم لوگوں کو کیسے حاصل ہوگیا؟“
مصادف:”معاملہ یہ ہے کہ مصر کے قریب پہنچنے کے بعد ہم لوگوں کو اطلاع ملی کہ بازار مصر میں اس مال کی شدید کمی ہے جو ہم لوگوں کے پاس ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں نے آپس میں یہ عہد کرلیا کہ سو فیصد منافع سے کم میں اپنا مال نہ فروخت کریں گے۔ پھر ہم لوگوں نے ایسا ہی کیا اور سو فیصد فائدہ پر اپنا مال فروخت کرکے واپس چلے آئے۔“
امام ؑ:”سبحان اللہ! تم لوگوں نے ایسی حرکت کی ہے! تم لوگوں نے یہ عہد کیا کہ مسلمانوں کے درمیان کالا بازاری کا ماحول پیدا کرو گے اور تم لوگوں نے باہم یہ قسم اٹھائی کہ سو فیصدی منافع سے کم قیمت پر اپنا مال نہیں فروخت کرو گے۔ نہیں، میں ایسی تجارت اور ایسا منافع ہر گز پسند نہیں کرتا ہوں۔“
اس کے بعد امام ؑ نے ایک تھیلی اٹھائی اور کہا۔”یہ میری پونجی ہے۔“دوسری تھیلی اسی جگہ پڑی رہنے دی اور کہا۔”اس دوسری تھیلی سے جس میں سو فیصد منافع کی رقم ہے، میرا قطعی اور کوئی سروکار نہیں ہے۔“
پھر امام جعفر صادق ؑ نے مصادف کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے مصادف! حلال روزی کے مقابلے میں تلوار چلانا آسان ہے۔ یعنی تلوار چلانا آسان ہے مگر حلال روزی حاصل کرنا آسان نہیں۔“
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- کالا بازار
کالا بازار
-
Ilyas - فروری 7, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 7
- 0 minute read


































