Fri Oct 09, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

مغربی معاشرہ میں عورت و مرد کی برابری کی حقیقت(1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس
خداوند عالم نے انسان کو خلق کیا ہے اور وہ یقیناً احسن الخالقین ہے۔ خداوند عالم نے مرد اور عورت دونوں کو مخصوص صفات کے ساتھ خلق کیا اور ان صفات کا ان کی زندگی اور انداز حیات سے بلاواسط تعلق ہے۔ انسان جب فطرت سے بغاوت کرتا ہے اور اپنے آپ کو ایسی غیر فطری روش کی طرف لے جاتا ہے تو اس کا نتیجہ معاشرے کے بگاڑ اور استحصال کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ مغرب میں عورت اور مرد کے حقوق کے برابر ہونے کے بارے میں بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ مغربی میڈیا اس مسءَلے کو اس انداز میں پیش کرتا ہے، گویا مغربی معاشرے میں عورت کو مرد کے مقابلے میں تمام حقوق دے دیئے گئے ہیں اور اب مرد کو عورت پر کسی طرح کی کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ ہم اس موضوع کا تین زاویوں سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلا موضوع یہ ہے کہ کیا مغربی معاشروں میں عورت اور مرد کو مساوی تنخواہ اور حق زحمت دیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کیا دونوں کو ایک طرح کی سہولیات اور شرائط میسر ہیں اور تیسرا یہ کہ کیا عورتیں زیادہ غربت و افلاس کا شکار ہیں یا مرد۔
مغربی ممالک میں کئی برسوں سے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مغربی معاشروں میں عورت اور مرد مساوی ہیں، لیکن دوسرے ممالک میں عورتوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور انہیں مردوں کے مساوی حقوق نہیں دیئے جاتے۔ مغربی ممالک میں انجام پانے والی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ صورت حال اس طرح نہیں ہے، جس طرح بیان کی جاتی ہے۔ مغربی معاشروں سے حاصل شدہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں تنخواہ، اضافی مراعات اور عورت سے کام لینے کے حوالے سے غیر مساوی سلوک کیا جاتا ہے۔ یورو سٹیٹ نامی تحقیقی ادارے کی رپورٹ جس میں یورپی یونین کے رکن ممالک میں مردوں اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں تحقیقات کے نتائج بیان کیے گئے ہیں، آیا ہے کہ عورتوں اور مردوں کی تنخواہوں میں سولہ فیصد کا فرق ہے، یعنی مردوں کو عورتوں کے نسبت سولہ فیصد زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ جرمنی جہاں پر ایک بڑی تعداد میں جواں سال عورتیں موجود ہیں، وہاں یہ فرق 21.50 فیصد ہے، برطانیہ میں یہ تفاوت 21 فیصد اور سوئٹزرلینڈ میں 20 فیصد ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق فرانس، سویڈن اور اسپین میں بھی عورتوں اور مردوں کے درمیان تنخواہ میں قابل توجہ فرق ہے۔ سویڈن میں ایک عورت کو مرد کے مقابلے میں پندرہ فیصد کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ امریکہ میں بھی عورتوں کو اس بات پر سخت اعتراض ہے کہ ان سے مردوں کے برابر کام لیا جاتا ہے، لیکن تنخواہ اور اجرت مساوی نہیں دی جاتی۔ اعداد و شمار کے مطابق مردوں کو اگر ایک ڈالر اجرت دی جاتی ہے تو عورتوں کو 77 سینٹ ملتے ہیں۔ چھ سے آٹھ گھنٹے کام کرنے والی مستقل ملازمت پیشہ خواتیں کو مردوں کے مقابلے میں 18 فیصد کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ مینیجنگ پوسٹوں پر یہ فرق 20 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ تنخواہ کا یہ فرق عام طور پر تعلیمی ڈگری، تجربہ، جاب کی نوعیت، ملازمت کے مقام وغیرہ سے بھی مربوط ہوتا ہے، لیکن رپورٹ مرتب کرنے والوں کا تجزیہ یہ ہے کہ تنخواہوں میں فرق کی سب سے بنیادی وجہ جنسی تفاوت یعنی عورت اور مرد کے درمیان حقوق و مراعات کی عدم مساوات ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے برسلز مین نمائندے محمد دلاوری نے ایک ایسی ویڈیو رپورٹ نشر کی تھی، جس نے یورپی یونین کے دارالحکومت کے آبادی کے ایک حصے میں پوشیدہ کئی رازوں کو نمایاں کر دیا تھا۔ روشنیوں سے چمکتے اس شہر کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک آبادی کو دکھایا گیا، جس میں مختلف شورومز میں خواتین کو بٹھایا گیا اور سیاح اور شوقین حضرات گویا بردہ فروشی کے بازار میں مزے سے گھوم رہے ہیں اور اپنی پسند کی عورت کو دیکھ کر خریدنے میں مصروف ہیں۔ شورومز میں بیٹھی ان خواتیں کی اکثریت مشرقی یورپ اور یورپ کے غریب علاقے سے بہتر زندگی گزارنے کے لیے برسلز آتی ہیں اور اکثر کو اسمگل کرکے یہاں لایا گیا ہے اور اب وہ یہاں پر انتہائی کم داموں پر اپنی عزت و عصمت کو بیچنے پر مجبور ہیں۔
ان عورتوں سے علاقے میں موجود شورومز کے مالکان کے علاوہ حکومت بھی خاطر خواہ مالی فائدہ اٹھاتی ہے۔ وہ افراد جو عورتوں کی جسم فروشی کے مخالف نہیں ہیں، وہ بھی عورتوں کی شورومز میں نمائش کرکے غیرانسانی طریقے سے ان کی خرید و فروخت کو وہ یورپی یونین کے دارالحکومت میں انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے ہیں۔ آئی آر بی کے نمائندے نے وہاں موجود جب ایک عورت سے انٹرویو کیا تو اس کا کہنا تھا کہ میرے پاس نہ پیسے تھے نہ غذا، میرے پاس کچھ بھی نہ تھا، لیکن اب میں دن میں پچاس گاہکوں کو بھگتاتی ہوں۔ کاش میں پیدا ہی نہ ہوتی، مر جاتی تو اس زندگی سے بہتر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترقی یافتہ ممالک میں عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ غربت و افلاس میں مبتلا ہیں۔ اب تو یورپ میں ایک اصطلاح "غربت کا زنانہ ہونا” رائج ہوگئی ہے۔ یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں ایک تہائی آبادی کو غربت و افلاس کا چیلنج درپیش پے۔ اس میں عورتوں کے اعداد و شمار مردوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 12 میلین عورتوں کو مردوں سے زیادہ غربت و افلاس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ میں سب سے زیادہ غریب عورتیں، صاحب اولاد عورتیں ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ کی رکن الھان عمر نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ امریکہ میں 16 میلین عورتیں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہیں۔ امریکہ کے معرف فلمساز کری ڈک نے 2015ء میں شکارگاہ نامی ایک دستاویزی فلم بنائی تھی، جس میں ہاورڈ یونیورسٹی میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے موضوع کو نمایاں کیا گیا تھا۔
اس رپورٹ میں فلم پروڈیوسر یہ پیش کرتا ہے کہ امریکہ میں ایک تہائی طالبات اپنی یونیورسٹی کے طلباء کے ہاتھوں جنسی زیادتی یا آبروریزی کا شکار ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس طرح کے 80 فیصد معاملات یونیورسٹی حکام تک نہیں پہنچائے جاتے۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکیاں پولیس میں بھی رپورٹ نہیں کرتیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کی طرف سے دستور ہے کہ پولیس میں مقدمہ رجسٹرد کرنے سے پہلے یونیورسٹی میں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسر نے اپنی دستاویزی فلم میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ہاورڈ یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ جنسی زیادیتوں کا اصلی ریکارڈ سامنے آجائے تو یہ یونیورسٹی بند ہو جائے اور اس کے کرتا دھرتا ذمہ دار خودکشی کر لیں۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی کی سروے ٹیم کی ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیم مالوی نے 2016ء میں ہونے والے ایک سروے میں 1415 افراد سے انٹرویو کیے تھے۔ ٹیم مالوی کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کی خواتین اسٹاف سمیت ایک مرد اسٹاف کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ان میں 69 فیصد کو آفس میں، 43 فیصد کو پبلک مقامات پر، 45 فیصد کو سڑکوں پر اور 14 فیصد کو گھروں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکہ میں 88 فیصد مرد اور 89 فیصد عورتوں نے جنسی زیادتی کو امریکی معاشرے کی ایک بڑی حقیقت سے تعبیر کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر دس عورتوں میں چھ عورتوں سے جنسی سوئے استفادہ کیا جاتا ہے۔ ہالی وڈ میں بھی عورتوں کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ہالی وڈ میں کام کرنے ولای 94 فیصد عورتوں کو جنسی زیادتی کے تلخ تجربے سے گزرنا پڑا۔
ہالی وڈ میں جنسی زیادتی کا طوفان اس قدر شدید ہے کہ 2017ء میں سوشل میڈیا پر می ٹو جیسی کمپین چلی۔ اس کمپین میں فلم پروڈیوسروں، اداکاروں، ہدایتکاروں کے علاوہ جارج بش اور بل کلنٹن جسے افراد کے نام بھی جنسی زیادتی کرنے والوں کے عنوان سے سامنے آئے تھے۔ ایسوسی ایئڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی پارلیمنٹ کی خواتین ارکان بھی اس مصیبت سے محفوظ نہیں ہیں۔ امریکہ کا وائٹ ہاؤس بھی اس طرح کے جرائم سے مبرا نہیں ہے۔ ڈیلی میل نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ کے وکیل نے سو ایسی عورتوں کو بھاری رقوم دی ہیں، تاکہ ڈونالڈ ٹرامپ کے خلاف جنسی زیادتی کے حوالے سے کسی طرح کا اطہار نہ کریں۔ عورتیں صرف امریکہ میں غیر محفوظ نہیں بلکہ یورپی ممالک میں بھی خواتین کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ میڈیا میں کہا جاتا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنی سلامتی اور تحفظ کے لیے بہت زیادہ قانونی حمایت حاصل ہے، لیکن اعداد و شمار اس کے برعکس ہیں۔
سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کی 87 خواتین ارکان اور 6 مرد ارکان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ سویڈن کی وزیر خارجہ مارگوٹ والسٹروم نے بھی می ٹو کمپین میں شامل ہوتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ انہیں بھی اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر جنسی زیادتی کا تلخ تجربہ سہنا پڑا۔ سویڈن یورپی ممالک میں جنسی زیادتی اور خواتین کی آبروریزی کے حوالے سے یورپ میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس ملک میں ہر چار عورتوں میں سے ایک جنسی تجاوز کا شکار ہوتی ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے بھی ایک رپورٹ نشر کی تھی، جس میں آیا ہے کہ انسانی حقوق اور انسانی دوستانہ امور انجام دینے والی تنظیموں میں عورتوں کے خلاف جنسی زیادی کے متعدد لیکن خفیہ کیسز انجام پاتے ہیں۔ عالمی اداروں سے وابستہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین نے اعتراف کیا ہے کہ اقوام متحدہ سے لے کر مقامی سطح کے فلاحی اداروں میں یہ سماجی برائی پائی جاتی ہے، لیکن اس کے خلاف کوئی موثر اقدام انجام نہیں دیا جاتا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular