کیا فیس بک، انسٹا گرام ملک کی ترقی کیلئے اتنے ضروری ہیں؟،لاہور ہائیکورٹ
لاہور(نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کی روک تھام کی درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے کسی بڑے کی ماں بہن پر بات ہو تو وہ برداشت نہیں کرتا، یہاں امت کی ماوں اور صحابہ سے متعلق بات ہوئی، کیا حمیت ختم ہو گئی ہے، ہم اپنی ماوں، بیٹیوں کیخلاف تو کوئی بات نہیں سن سکتے، ا مہات المومنین کیخلاف ہرزہ سرائی ہو تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، یہاں کسی سیاست دان کیخلاف بات ہو تو پوری پارٹی میدان میں آ جاتی ہے ،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ سے یہ بات ہو رہی ہے، مذہبی منافرت کا لٹریچر پھیلایا جا رہا ہے، یہ آگ بڑھی تو بہت کچھ جل جائے گا ، عدالت نے استفسار کیا فیس بک، انسٹا گرام ملک کی ترقی کیلئے اتنے ضروری ہیں؟ کیا اس کی وجہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں ملے گی؟


































