Thu May 23, 2024

شہید ابراہیم رئیسی لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ لحد غزہ پر اسرائیلی حملے، مزید 64 فلسطینی شہید، متعدد زخمی، 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ایام حج کی آمد، غلاف کعبہ کو 3 میٹر اونچا کردیا گیا سعودی عرب، اردن، فلسطینی اتھارٹی اور حماس کا یورپی ممالک کیجانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم وزیراعظم شہباز شریف کی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات اسرائیل کی نابودی کا وعدہ الٰہی پورا ہوگا، ولی امر مسلمین ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا جسد خاکی آبائی شہر بیرجند پہنچا دیاگیا دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کیساتھ ہیں، ملی یکجہتی کونسل یورپی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا ایک اہم موڑ ہے، حماس ناروے، آئرلینڈ اور اسپین کا 28 مئی کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان امریکا کے بحری راستے سے غزہ میں امداد کی ترسیل کا منصوبہ ناکام ہوجائے گا، ورلڈ فوڈ پروگرام رول آف لاء کے بغیر عدل وانصاف ممکن نہیں، سینیٹر راجا ناصر عباس ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر کیسے گرا؟ تفصیلات سامنے آگئیں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیرخارجہ اور رفقاء کی نماز جنازہ ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا امت مسلمہ اسرائیلی جرائم کیخلاف احتجاج جاری رکھے، حماس

روزانہ کی خبریں

عراق، امریکی قبرستان

عراق میں تعینات امریکی فوجیوں نے حشدالشعبی کے فوجی مراکز پر حملہ کرکے ایک ایسے گھناونے اقدام کا ارتکاب کیا ہے، جس پر امریکا کے اتحادی بھی انگشت بدانداں ہیں۔ سعودی ہوائی اڈوں سے اْڑنے والے امریکی جنگی طیاروں نے عراق اور شام کے ملحقہ علاقوں پر فضائی حملے کرکے عراق کی سرکاری اور ریگولر رضاکار فورس الحشد الشعبی کے متعدد افراد کو شہید و زخمی کر دیا ہے۔ عراق اور امریکا کے درمیان باقاعدہ قانونی معاہدہ تھا کہ وہ عراق کے زمینی، فضائی اور سمندری علاقوں کا دفاع کرے گا، لیکن “دودھ کا رکھوالا بلا” کے تحت دہشت گرد امریکی فوجیوں نے قانونی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الحشد الشعبی کے ان نوجوانوں کو خاک و خوں میں غلطاں کر دیا، جو اپنے وطن کو دہشت گردوں اور دہشت گردی سے بچانے کے لیے عراق و شام کی سرحدوں پر القائم اور بوکمال نامی علاقوں میں تعینات تھے۔امریکی فورسز اس سے پہلے بھی ان قوتوں پر حملے کرچکی ہیں، جو امریکا کے پیدا کردہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف عراق و شام کے مختلف علاقوں میں نبرد آزماء ہیں۔ الحشد الشعبی نے عراق میں امریکا کے انتہائی پیچیدہ اور پر خرچ منصوبے یعنی داعش اور نام نہاد اسلامی خلافت کے خونی مں صوبے کو ناکام بنایا ہے۔ حشد الشعبی کو مرجعیت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ کسی کی ڈکٹیشن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ الحشد الشعبی اسرائیل کی آنکھوں کا کانٹا ہے اور عراق میں صہیونی مفادات کے مقابل ایک سیسہ پلائی دیوار ہے۔ الحشد الشعبی کا عراق میں مضبوط ہونا، امریکا کے آئندہ کے منصوبوں کو سخت خطرات سے دوچار کرسکتا ہے۔ الحشد الشعبی داعش اور اس طرح کے دیگر دہشت گردوں کے خلاف عزم بالجزم کی حامل ہے اور ماضی قریب میں اْس نے اپنی طاقت کا لوہا بھی منوایا ہے۔ الحشد الشعبی اس مقاومتی بلاک کا مضبوط بازو ہے، جس نے خطے میں امریکا کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی طاقت کے طلسم کو چکنا چور کرکے رکھ دیا ہے۔الحشد الشعبی عرب دنیا میں اْن تمام قوتوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے، جو بیرونی سامراجی طاقتوں کے خلاف مقابلے کا عزم و ارادہ رکھتے ہیں۔ الحشد الشعبی کی یہی صفات امریکہ، اسرائیل اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے زہر قاتل ہیں۔ انہوں نے شروع میں اسے فرقہ واریت اور ایران سے جوڑ کر اس کی ساکھ اور کارکردگی کو مشکوک بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، کیونکہ وہ خطے میں استقامتی و مزاحمتی بلاک کی مسلح فورسز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن دوسری طرف معروف عرب تجزیہ نگار عبدالہادی عطوان نے امریکا کی حالیہ گھناؤنی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکا نے الحشد الشعبی پر حملہ کرکے اپنے لیے جہنم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ خطے میں امریکا کی مسلسل ناکامیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ امریکا کا اس علاقے سے جلد یا بدیر بستر گول ہونے والا ہے۔

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular