عراق میں تعینات امریکی فوجیوں نے حشدالشعبی کے فوجی مراکز پر حملہ کرکے ایک ایسے گھناونے اقدام کا ارتکاب کیا ہے، جس پر امریکا کے اتحادی بھی انگشت بدانداں ہیں۔ سعودی ہوائی اڈوں سے اْڑنے والے امریکی جنگی طیاروں نے عراق اور شام کے ملحقہ علاقوں پر فضائی حملے کرکے عراق کی سرکاری اور ریگولر رضاکار فورس الحشد الشعبی کے متعدد افراد کو شہید و زخمی کر دیا ہے۔ عراق اور امریکا کے درمیان باقاعدہ قانونی معاہدہ تھا کہ وہ عراق کے زمینی، فضائی اور سمندری علاقوں کا دفاع کرے گا، لیکن "دودھ کا رکھوالا بلا” کے تحت دہشت گرد امریکی فوجیوں نے قانونی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الحشد الشعبی کے ان نوجوانوں کو خاک و خوں میں غلطاں کر دیا، جو اپنے وطن کو دہشت گردوں اور دہشت گردی سے بچانے کے لیے عراق و شام کی سرحدوں پر القائم اور بوکمال نامی علاقوں میں تعینات تھے۔امریکی فورسز اس سے پہلے بھی ان قوتوں پر حملے کرچکی ہیں، جو امریکا کے پیدا کردہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف عراق و شام کے مختلف علاقوں میں نبرد آزماء ہیں۔ الحشد الشعبی نے عراق میں امریکا کے انتہائی پیچیدہ اور پر خرچ منصوبے یعنی داعش اور نام نہاد اسلامی خلافت کے خونی مں صوبے کو ناکام بنایا ہے۔ حشد الشعبی کو مرجعیت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ کسی کی ڈکٹیشن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ الحشد الشعبی اسرائیل کی آنکھوں کا کانٹا ہے اور عراق میں صہیونی مفادات کے مقابل ایک سیسہ پلائی دیوار ہے۔ الحشد الشعبی کا عراق میں مضبوط ہونا، امریکا کے آئندہ کے منصوبوں کو سخت خطرات سے دوچار کرسکتا ہے۔ الحشد الشعبی داعش اور اس طرح کے دیگر دہشت گردوں کے خلاف عزم بالجزم کی حامل ہے اور ماضی قریب میں اْس نے اپنی طاقت کا لوہا بھی منوایا ہے۔ الحشد الشعبی اس مقاومتی بلاک کا مضبوط بازو ہے، جس نے خطے میں امریکا کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی طاقت کے طلسم کو چکنا چور کرکے رکھ دیا ہے۔الحشد الشعبی عرب دنیا میں اْن تمام قوتوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے، جو بیرونی سامراجی طاقتوں کے خلاف مقابلے کا عزم و ارادہ رکھتے ہیں۔ الحشد الشعبی کی یہی صفات امریکہ، اسرائیل اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے زہر قاتل ہیں۔ انہوں نے شروع میں اسے فرقہ واریت اور ایران سے جوڑ کر اس کی ساکھ اور کارکردگی کو مشکوک بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، کیونکہ وہ خطے میں استقامتی و مزاحمتی بلاک کی مسلح فورسز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن دوسری طرف معروف عرب تجزیہ نگار عبدالہادی عطوان نے امریکا کی حالیہ گھناؤنی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکا نے الحشد الشعبی پر حملہ کرکے اپنے لیے جہنم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ خطے میں امریکا کی مسلسل ناکامیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ امریکا کا اس علاقے سے جلد یا بدیر بستر گول ہونے والا ہے۔


































