
لویہ جرگہ کی جانب سے چارسو خطرناک طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری کے بعد طالبان مذاکرات پر آمادہ، مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں منعقد ہوگا،سہیل شاہین
قیدیوں پر پر سنگین نوعیت جرائم کے الزامات تھے،خون خرابے سے روکنے کیلئے منظوری دی ، افغان مسئلے کا دیرپا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،پاکستان
کابل(نیوز ڈیسک)چار سو خطرناک طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری کے بعد انٹراافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگئی ،طالبان نے بھی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی،افغانستان کے لویہ جرگے نے طالبان کے مخصوص 400 قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ، جن طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی گئی ا ن پر سنگین نوعیت کے جرائم کے الزامات تھے ،عطا طیب کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خون خرابہ روکنے اور عوام کی بھلائی کے لیے جرگے نے 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی ، طالبان نے امن مذاکرات کے لیے مخصوص 400 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا تھا، افغانستان کی اعلی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے تین روز بعد حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور انجام پائے گا، افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے، ہمارا موقف بالکل واضح ہے، طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی ہم بین الافغان امن مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے، سہیل شاہین نے بتایا کہ مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں منعقد ہوگا، پاکستان نے طالبان قیدیوں کی رہائی کیلئے افغان لویہ جرگہ کی سفارشات کا خیرمقدم کیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امید ہے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انٹرا افغان مذاکرات کا دور جلد شروع ہوگا ، پاکستان ہمیشہ افغان قیادت پر دیرپا امن کے لیے بین الافغان مذاکرات پر زور دیتا رہا ہے ، افغان مسئلے کا دیرپا حل جامع مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔


































