| امریکا میں جنگجو اور دہشت گردصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ سیاہ دور کا اختتام ہوگیا لیکن یہ دور ایک بھیانک خواب کی طرح ہمیشہ یاد رہے گا، ٹرمپ کے چار سالہ دورحکومت کا نتیجہ ظلم، بدعنوانی اور دنیا بھر کے عوام کے لئے مسائل و مشکلات کھڑی کرنے کے سوا کچھ نہیں نکلا بلکہ جاتے جاتے وہ اپنے عوام میں بھی نفرت کی ایسی خلیج پیدا کرگئے جسے پاٹنا نئے صدر کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا، ٹرمپ نے معاشرے کو تقسیم کرکے اپنے پیچھے ایسی منحوس وراثت چھوڑی ہے جس جسے ان کی اپنی جماعت قبول کرنے پر تیار نہیں، کل تک امریکا جوکچھ تیسری دنیا کے ممالک خاص طور پر مسلم دنیا میں کرتا رہا ہے وہی سب کچھ لوٹ کر اس کے سامنے آگیا، اپنا تسلط مضبوط کرنے کیلئے حکومتوں کے تختے الٹنا ،سیاسی خلفشار اور عدم استحکام امریکی حکام کا خاصہ رہا ہے اور اب یہی سب کچھ امریکی عوام کو دیکھنا پڑرہا ہے ،بظاہر تو امریکا کے موجودہ حالات ٹرمپ دور کی پالیسیوں کے نتیجہ دکھائی دیتے ہیں مگرامریکی معاشرے میں تشدد اور عدم برداشت کی موجودہ لہر نئی نہیں بلکہ اس کی جڑیں کافی گہری ہیں،سیاہ اور سفید تقسیم امریکی معاشرے میں بظاہر تو ختم ہوچکی ہے لیکن اس کی جڑیں نہیں کٹ سکیں ،ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی آبیاری کی اوریہ زرخیزہونے لگیں ، قانونی طور پرتو غلامی ختم کر دی گئی اور افریقن امریکن آزاد ہوگئے مگر ان کے حوالے سے موجود معاشرتی مسائل کو حل نہیں کیا گیا،سفید فام برتری کا تصور ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہا اور وہ ریاستیں جو غلامی کی حامی تھیں، وہاں آج بھی عمومی سطح پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غلامی کا خاتمہ اور افریقن امریکن کے حقوق کی برابری کی بات درست نہیں،ٹرمپ بھی اسی سوچ کے حامی ہیں اور انہو ں نے اسی کو پروان بھی چڑھایا،صدر ٹرمپ نے صرف معاشرتی تقسیم کو ہی گہرا نہیں کیا بلکہ انتخابی نتائج تسلیم نہ کرکے ملکی سکیورٹی کوبھی خطرے میں ڈال دیا، جمہوری نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور اقتدار کی پرامن منتقلی میں مداخلت کی،اپنے حامیوں کو پارلیمنٹ کی عمارت جسے کیپٹل ہل کہا جاتا ہے اس پر حملے کیلئے اکسایا اور اس کا نتیجہ یہ نکلاکا اقتدار کی پرامن منتقلی ناممکن ہوگئی ، نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وہاںہزاروں فوجیوں کو تعینات کرنا پڑا، مرکزی علاقوںپنسلوانیا ایونیو، وائٹ ہاوس، کیپٹل ہل سمیت تمام اہم عمارتوں کو خاردار تاراور کنکریٹ کے بلاک رکھ کر بند کرنا پڑا، واشنگٹن ہی نہیں تمام ریاستوں کی اہم عمارتوں میں سیکورٹی ہائی الرٹ رہی،جگہ جگہ فوجی ناکوں،گھومتی فوجی گاڑیوں اور فضا میں اڑتے ہیلی کاپٹروں نے واشنگٹن کو چھاو ¿نی میں تبدیل کردیا، امریکا کی موجودہ صورتحال یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ امریکا دنیا کی فکر چھوڑ کر اپنے گھر کی فکر کرے،اسے داخلی طور پر سدھار کی زیادہ ضرورت ہے، اسے دوسرے ممالک میں مداخلت، حکومتوں کے تختے الٹنے اور آمرانہ حکومتوں کی سرپرستی کو ترک کرنا ہوگا ،نئی امریکی حکومت کیلئے سب سے بڑاچیلنج بیرونی سے زیادہ اندرونی حالات ہیں ایک سوال اور بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کہ کیا آئندہ امریکی حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کی پیدا کردہ جذباتی فضا سے باہر نکل سکے گی؟ ہماری رائے میں ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔ اس کی ایک وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوام کے وسیع طبقوں میں مقبولیت ہے۔ آئندہ حکومت ان کے پاپولر ووٹ کو پوری طرح نظرانداز کرکے فیصلے نہیں کر پائے گی۔ یہ مشکل انھیں داخلی سطح پر کیے گئے اقدامات میں بھی پیش آئے گی اور عالمی سطح پر بھی۔ اس جذباتی فضا نے نکلنے کے لیے بڑی جرا ¿ت مندی اور حکمت و تدبر کی ضرورت ہے۔ منتخب حکومتیں عام طور پر عوام کی رائے کے زیر اثر رہتی ہیں۔ ایسے موقع پر مدبر قیادت عوام کو نئے سرے سے نئی حکمت عملی کے لیے قائل تو کرسکتی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی نئی قیادت اس کا مظاہرہ کر پائے گی یا نہیں۔ اس کے کمزور اور چند ظاہری اقدامات امریکہ کو بچانے کے لیے ناکافی ہوں گے۔ دیگر اقوام پر لگائے گئے زخموں کو بھی مندمل کرنا ضروری ہوگا، امریکاکی خارجہ پالیسی کا بہت زیادہ دار و مدار داخلی پالیسی پر ہے ، جو بائیڈن کی ہر پالیسی اب امریکا کا داخلی معاملہ ہے،امریکی جمہوریت اور امریکی معاشرے کو بہتر کرنا اور اسے انصاف پسند بنانا بیرون ملک ’برانڈ امریکا‘ کی و قعت بڑھانے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ |


































