عراق میں 5 ہزار 200 فوجیوں کی تعداد رواں ماہ کم کرکے 3 ہزار تک کردی جائے گی،فوجیوں کی ٹریننگ کا کام جاری رہے گا، امریکی حکام
عراقی پارلیمنٹ آئند ہ اجلاس میں غیر ملکی فوجیوں کو باہر نکالنے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گی،فرانس اور جمہوریہ چیک کا بھی فوج واپس بلانے کا اعلان
واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکا نے عراق میں تعینات اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا اعلان کردیا عراق میں موجود 5 ہزار 200 امریکی فوجیوں کی تعداد رواں ماہ کم کرکے 3 ہزار تک کردی جائے گی،3 ہزار کے قریب امریکی فوجی ابھی عراق میں ہی قیام کریں گے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے میرین جنرل فرینک مکینزی کا کہنا ہے کہ امریکی فوج مسلسل عراقی فوجیوں کی ٹریننگ کا کام کرتی رہے گی تاکہ عراق میں امریکی فوج اپنی موجودگی کو کم سے کم کر سکے ،ادھر عراقی پارلیمنٹ آئند ہ اجلاس میں غیر ملکی فوجیوں کو باہر نکالنے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گی، الفتح اتحاد کے رکن جابر الفتلاوی نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی اور ملک سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو باہر نکالنے کے آئندہ اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا ، دوسری جانب فرانس نے بھی عراقی سر زمین سے اپنی فوج کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی، جمہووریہ چیک کی وزارت دفاع نے بھی کورونا وائرس کے پیش نظر عرااق سے اپنی فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا تھا،امریکی فوجیوں پر حملوں میں بھی تیزی آگئی ہے بغداد کے الشعلہ علاقے پر اس وقت راکٹ حملہ کیا گیا جب امریکی دہشتگرد، فوجی ساز و سامان لے جا رہے تھے، جبکہ دوسرا دھماکہ صوبہ بابل میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے ہو ا،ادھر بغداد کے بین الاقوامی ایئر پورٹ کے فوجی حصے پر تین راکٹ داغے گئے
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- امریکہ
- امریکی فوج پرعراقی مجاہدین کے حملے ،تعداد میں کمی کا…


































