بیس سال بعد امریکا نے آخرکار افغانستان سے مکمل فوجی انخلا ا ہے علان کردیا ،یہ انخلا یکم مئی کو شروع ہوگا اور رواں سال 11ستمبر تک تمام امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی،فوجی انخلا کا اعلان امریکا کے نئے صدرجوبائیڈن نے کیا اور اپنے اعلان کے وقت انہو ں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے، ہم نے افغانستان میں آئندہ کئی نسلوں تک فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رکھی تھی ،بظاہر یہ اعلان تو گذشتہ سال فروری میں دوحہ معاہدے کے مطابق ہی ہے لیکن اس میں تبدیلی یہ ہوئی ہے معاہدہ میں یکم مئی تک تمام فوجی نکالنے کا طے ہوا تھا تاہم اب یہ کام یکم مئی کو شروع ہوگا،اس سے پہلے جوبائیڈن اور ان کے دفاعی امور کے مشیر یہ کہتے پھر رہے تھے کہ یکم مئی کی ڈیڈلائن پر عملدرآمد مکمن نہیں اور انخلا تاخیر کا شکار ہوجائے گا تاہم طالبان کی جانب سے جنگ میں تیز ی اور امریکی فوج پر حملے کی دھمکیوں کے بعد امریکی حکام نے درمیان کاراستہ نکالنے کی کوشش کی ہے ،تاخیر سے ہی صحیح افغانستان سے مکمل طور پر فوجی انخلا کا اعلان درحقیقت جو بائیڈن کی اپنے ابتدائی موقف سے واضح پسپائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ دوحہ معاہدے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں،انہیں باور کرادیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور فوج واپس نہ بلائی تو اس کا نتیجہ طالبان سے دوبارہ جنگ کے آغاز کی صورت میں ظاہر ہو گاجسے جوبائیڈن کسی صورت پسند نہیں کریں گے کیونکہ وہ امن کا پرچم اٹھاکر اقتدار میں آئے ہیں ،وہ اب ان چھوٹی چھوٹی جنگوں میں اپنی توانائی صرف کرنے کے بجائے اپنے سب سے بڑے دشمن چین پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں،اس کا اعلان ان کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بارہا کرتے رہے ہیں ،اگر امریکاکیلئے ایک بار پھر افغانستان کی صورتحال پیچیدہ رخ اختیار کرتی تو امریکی حکام کیلئے کئی محاذوں پر ایک ساتھ لڑنا آسان نہ ہوتا ، خاص طور پر اس وقت جب روس سے اس کے تعلقات شدید تناو کا شکار ہو چکے ہیں اور چین کا مسئلہ بھی امریکا کیلئے پہلے کی نسبت بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے،اسی لئے امریکا کسی صورت دوبارہ افغان جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا ہے اس نے اپنی ترجیحات کو اس خطے سے منتقل کرلیا ہے ،وجہ کچھ بھی ہو امریکا کا کسی واضح کامیابی کے بغیر افغانستان سے نکلنا اس کی بڑی پسپائی اور رسوائی ہے ،کھربو ں ڈالر جنگ میں جھونکنے کے بعد اب امریکی حکام القاعدہ کے خاتمہ کو اپنا مشن قرار دیکر خوش ہورہے ہیں ،افغانستان سے دوبارہ امریکا پر حملہ نہ ہونے کی باتیں کرکے دنیا میں اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن امریکا کو افغانستان میں جو شرمناک شکست ہوچکی ہے اس کا ازالہ خوش فہمیوں پر مبنی باتوں سے نہیں ہوگا،خطے میں امریکا کے دن گنے جاچکے ہیں اسے جسطرح ذلیل و رسواہوکر افغانستان سے نکلنا پڑا ہے اسی طرح اسے عراق اور شام سے بھی نکلنا ہوگا۔


































