امریکی صدر نے کئی بار موخر کرنے کے بعد 28 جنوری کو اپنے شیطانی منصوبے کو دنیا کے سامنے پیش کردیا جسے وہ سینچری ڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے مسئلہ فلسطین حل ہوجائے گا اور خطے میں پھیلے کشیدگی کے بادل چھٹ جائیں گے،اگر اس منصوبے پر نظر ڈالی جائے کہیں سے بھی اندازہ نہیں ہوگا کہ اسے دو فریقوں کے درمیان کسی تصفیے کیلئے مرتب کیا گیا ہے بلکہ اسے فلسطینی قوم کے تاریخی حق، قومی تشخص اور زمینی حقائق کو فراموشی کی نذر کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے،منصوبے سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا نے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کوباضابطہ جائزقرار دے دیا ہے جسے وہ پہلے ہی جائزہ سمجھتے تھے،امریکی منصوبے میں فلسطینیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر محدود خود مختاری دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ اسرائیل تمام یہودی بستیوں کو ریاست میں ضم کرسکے گا اور کم وبیش تمام مشرقی القدس پر بھی اس کا کنٹرول ہوگا،نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینچری ڈیل کے نتیجے میں نہ صرف قدس فلسطینیوں کا دارالحکومت نہیں رہے گا بلکہ ان سے باقی زمینیں بھی چھین لی جائیں گی اور فلسطینی ریاست چند بکھرے ہوئے جزیروں کی صورت میں تبدیل ہو جائے گی،اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی اس کی تیاری میں حصہ لینے والے سعودی عرب اور عرب امارات نے فوری طور پر اس کے خیرمقدم کا اعلان کیا جبکہ ایران،ترکی،ملائشیا اور پاکستان جیسے بڑے مسلم ممالک نے اسے رد کردیا، منصوبے میں اسرائیل کو اس قدر بے تحاشہ مراعات دی گئی ہیں کہ اردن اور مصر نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے باوجود اس منصوبے کو صاف مسترد کر دیا ہے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے انتہائی محدود عرب ریاستیں ایسی ہیں جنہوں نے سینچری ڈیل قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اعلان کی تقریب میں اپنے نمائندے بھی بھیجے تھے، لیکن مسلم دنیا میں ان عرب حکمرانوں کے خلاف نفرت کی آگ پیدا ہو چکی ہے، سوشل میڈیا پر ان عرب حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کے اس اقدام کو عرب دنیا کے پہلی ترجیح کے حامل ایشو سے غداری قرار دیا جا رہا ہے، دلچسپی کی بات ہے کہ ان ممالک نے بطور ملک کو سنچری ڈیل کی کھل کر حمایت کی لیکن عرب لیگ اور او آئی سی میں بیٹھ کر منصوبے کو مسترد کردیا یہ عمل ازخود ان ممالک کی منافقت اور دوغلے پن کا غماز خائن عرب حکمران اب تک خواب غفلت ڈوبے ہوئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ صیہونیت اور امریکا سے دوستی انہیں بچالے گی تو انہیں لیبیا کے معمر قذافی،عراق کے صدام کا انجام اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے،تاریخ کے ورق پلٹتے زیادہ دیر نہیں لگتی ہے، تجربوں اور تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینی عوام کی حقیقی امنگوں اور مطالبات کو مد نظر رکھے بغیر، کسی بھی منصوبے کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اس منصوبے کی ناکامی کی وجوہات پر دلائل دئے جائیں تو دو نکات سے تمام صورتحال واضح کی جاسکتی ہے،پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ منصوبہ ملت فلسطین کے حقوق سے تجاوز ہے کہ جو درحقیقت مسئلے کے حقیقی فریق ہیں، سنچری ڈیل کے منصوبہ سازوں نے ایک بنیادی غلطی کرتے ہوئے اس بات کو بھلا دیا کہ فلسطینی اس منصوبے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور اپنے اہداف کے حصول کیلئے ان کی مزاحمت میں شدت آئے گی جس سے منصوبہ سازوں کی کامیابی کے خواب بکھر جائیں گے،اور دوسری بات اس منصوبے کا اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں کے قوانین اور اصولوں کے منافی ہونا ہے،امریکا کا سنچری ڈیل کا خیانت آمیز منصوبہ امریکا کے سابقہ منصوبوں کی مانند ملت فلسطین اور امت مسلمہ کی مزاحمتوں اور مجاہدتوں کے ذریعے، تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دے گا۔


































