غیر ضروری اور کڑی شرائط کے باعث ملک کی پسماندہ اکثریت امداد سے محروم رہ جائے گی
اسلام آباد(نیوزڈیسک)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے سنگین اثرات کے پیش نظر نادار طبقے کی مالی معاونت کیلئے حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے ”احساس پروگرام“میں رجسٹریشن کی شرائط پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ضروری اور کڑی شرائط کے باعث ملک کی پسماندہ اکثریت حکومتی امداد سے محروم رہ جائے گی۔ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل فرد یا ان کے اہل خانہ کی مذکورہ پروگرام میں رجسٹرڈ ہونے کے لیے نا اہلیت شرائط میں درج ہے۔ملک کا اکثریتی طبقہ غربت میں زندگی گزارنے کے باوجود زیارات کے لیے پاسپورٹ بنواتا ہے اس کے علاوہ بیشتر افراد نے مزدوری کے لیے بیرون ملک جانے کی کوشش میں بھی پاسپورٹ حاصل کر رکھا ہوتا ہے۔کسی کے پاس پاسپورٹ ہونے کو اس کے غیرمستحق یا اہل ثروت ہونے کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔اسی طرح پینشن حاصل کرنے والوں میں ایسی بیوائیں بھی شامل ہیں جو پہلے ہی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔لاک ڈاؤن کے بعد اشیا ئے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کے گزر اوقات کو مزید اذیت ناک بنا دیا ہے۔اس کے علاوہ بعض دیگر شرائط بھی ایسی ہیں جن سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ نہیں۔


































