سعودی عرب نے تقریبا چھ سال سے جاری یمن کی جنگ کا کوئی ہدف حاصل نہ ہونے اور اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد اس دلدل سے نکلنے کی کوششیں شروع کردی ہیں،ان کوششوں میں تیزی امریکا میں سعودی عرب کے سرپرست ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست سے بھی آئی ہے ،نئے صدر جوبائیڈن سعودی عرب کے حوالے سے ایک مختلف نکتہ نظر رکھتے ہیں اور امریکا کی یمن جنگ میں سعود ی عرب کی حمایت کے خلاف ہیں ،بین الاقوامی منظر نامہ دیکھتے ہوئے اب سعودی حکام بھی ایک ایسی جنگ سے چھٹکارا چاہتے ہیں جس میں اربوں ڈالر جھونک کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہوسکا بلکہ جنگ ان کی اپنی سرزمین میں داخل ہوچکی ہے ،انصار اللہ کے تابڑتوڑ میزائل اور ڈرون حملوں نے سعودی حکام کی نیندیں اڑادی ہیں وہ ظاہری طور پر حوثیوں کی شکست دینے کے دعویٰ تو بہت کرتے ہیں لیکن اب عرب میڈیا نے اعلیٰ سعودی حکام کے حوثیوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات اور ورچوئل اجلاسوں سے پردہ اٹھادیا ہے ،ان مذاکرات میں سعودی مذاکرات کاروں نے صرف ایک ہی شرط پیش کی ہے کہ حوثی ان کے سرحدوں سے پیچھے ہٹے جائیں اور وہاں ایک بفرزون قائم کردیا جائے اس کے بدلے وہ فضائی اور سمندری ناکہ بندی کو آسان بنادیں گے اور فضائی حملوں کا خاتمہ کردیا جائے گا، سعودی عرب کی اپنی سیکورٹی کی یقین دہانیاں حاصل کرنے کی یہ کوشش بتاتی ہے کہ وہ اس لاحاصل جنگ میں شکست کھاچکے ہیں ، جنگ کے آغاز پر سعودی حکام نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ صرف چند ہفتوں تک جاری رہے گی لیکن جھ سال بعد بھی یہ جنگ جاری ہے، اگست 2015 میں اتحادیوں کے زمینی دستے یمن کے جنوبی بندرگاہ والے شہر عدن میں اترے اور انھوں نے اگلے چند ماہ کے دوران حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کو جنوب کے بیشتر حصوں سے نکالنے میں مدد فراہم کی اور منصور ہادی کی حکومت عارضی طور پر عدن میں قائم ہوگئی لیکن اسے عوام کو بنیادی سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے میں دشواریوں کا سامنا رہا جبکہ صدر بذات خود زیادہ تر سعودی عرب میں مقیم رہے،اس دوران حوثیوں کو صنعا اور شمال مغربی یمن سے نکالا نہیں جا سکاوہ یمن کے تیسرے شہر تعز کا محاصرہ برقرار رکھنے اور سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرنے میں کامیاب رہے،جون 2018 میں اتحادی افواج نے بحر احمر کے شہر حدیدہ سے حوثیوں کا قبضہ ختم کرنے کیلئے ایک بڑا حملہ شروع کرتے ہوئے میدان جنگ میں آنے والے تعطل کو توڑنے کی کوشش کی ،چھ ماہ کی لڑائی کے باجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور فریقین نے سویڈن میں مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا لیکن سمجھوتے کے تحت حدیدہ سے فورسز کو ہٹانے کا کام شروع نہیں ہوا،کوئی نتیجہ نہ نکلنے پر سعودی عرب کے اتحادی جنگ سے نکلنے لگے اور اس کی ابتدا سعودیہ کے اہم ترین حلیف عرب امارات نے کی اب حالت یہ ہے کہ اس جنگ میں سعودی عرب تنہا کھڑا ہے ،ایسی صورت میں اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ جتنی جلد ہوسکے باہر نکل جائے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جنگ کا ایسا خاتمہ چاہتا ہے کہ شکست کی حزیمت کے داغ سے بچ سکے لیکن خفیہ مذاکرات اور جنگ بندی کی پیشکش خود اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب اس جنگ میں ناکام ہوچکا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ امریکا میں نئی قیادت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پہلے کو ئی باعزت راستہ نکال لیا جائے


































