
ذاتی جھگڑے میں پشتون نوجوان کی ہلاکت پر فرقہ پرستوں نے شہر میں نفرت کی آگ بھڑکادی، ہزارہ برادری اور شیعوں کے خلاف انتہائی شرانگیز نعرے
ایک ہزارہ نوجوان کا قتل ، پولیس اہلکار کو زخمی کردیا گیا، ہزارہ ٹاو¿ن اور مری آباد کے اطراف سیکیورٹی انتہائی سخت ،شفاف تحقیقات کی جائیں، آغا محمد رضا
کوئٹہ (نیوز ڈیسک) کوئٹہ میں فرقہ پرستوں نے ذاتی جھگڑے کے دوران نوجوان کی ہلاکت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہرمیں ایک بار پھر قتل وغارت گری کی سازش تیار کرلی ، واقعہ کا بدلہ لینے کیلئے مری آباد میں ہزارہ نوجوان کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا ، تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے ہزارہ ٹاو¿ن میں لین دین کے تنازع پر بعض نوجوانوں نے تین پشتون نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ایک نوجوان بلال نورزئی ہلاک اور دو نوجوان زخمی ہوگئے ،واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ، پشتونوں کی بڑی تعداد نے ہزارہ ٹاو¿ن کا گھیراو¿ کیا اور لاش کے ساتھ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے نزدیک ریڈ زون میں احتجاجی مظاہر ہ کیا، مظاہرے میں شامل شرپسندوں نے ہزارہ برادری اور شیعوں کے خلاف انتہائی شرانگیز نعرے لگائے ،پولیس نے واقعہ میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتارکرکے ان کا ریمانڈ بھی لے لیا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے حکم پر معاملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) بنادی گئی ہے ،گرفتاریوں کی باجود تکفیریوں نے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ آگ بھڑکادی اور مظلوم ہزارہ برادری کیخلاف انتہائی نفرت انگیز پروپیگینڈا کرکے ان کے خون کو مباح قرار دیا جارہا ہے ،اس شرانگیز مہم کے نتیجے میں سول اسپتال کے باہر تعینات ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ٹریفک پولیس اہلکارکو تشدد کرکے زخمی کردیا گیا جبکہ مری آباد میں ایک نوجوان کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا،ہزارہ برادری نے نوجوان کے قتل کیخلاف دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، حکومت نے ہزارہ ٹاو¿ن اور مری آباد کے اطراف سیکیورٹی انتہائی سخت کردی ہے تاہم ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث تکفیری گروہ ایک بار پھر شہر میں ہزارہ برادری کے خون سے ہولی کھیلنے کی سازش کررہاہے، مجلس وحدت مسلمین کے رہنمااور سابق صوبائی وزیر سید آغا رضا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ،واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں ا ور ذمہ داروں کو سزا دی جائے، واقعے کی آڑمیں لوگوں کو مشتعل کرکے پوری ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کرنا درست نہیں ۔


































