| سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی دعوت پر غاصب صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سعودی عرب کے شہر نیوم پہنچے پانچ گھنٹے قیام کے دوران انہوں نے نہ صرف سعودی ولی عہد سے ملاقات کی بلکہ وہ دوسرے حکام سے بھی ملے اس موقع پرامریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو بھی موجود رہے اور اپنی پوری معاونت فراہم کی، اس خبر نے دنیا میں تو ہلچل مچائی لیکن مسلم دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئ ،اس ملاقات کی سعودی عرب کی طرف سے تو ڈھیلی ڈھالی تردید آگئی لیکن صیہونی وزیر اعظم نے اس پر معنیٰ خیز جواب دیکر خاموشی اختیار کرلی یہ جواب خود اس ملاقات کی توثیق تھی صرف یہی نہیں بعض اہم اسرائیلی عہدیداروں نے اپنے اور امریکی میڈیا کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پوری تفصیلات بتادیں،پھر فلائٹ ٹریکنگ کا ریکارڈ مرتب کرنیوالی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 ڈاٹ کام کے ڈیٹاسے ثابت ہوتا ہے کہ صیہونی وزیر اعظم کا طیارہ تل ابیب سے اڑا اور نیوم پہنچا اور پانچ گھنٹے بعد اسی راستے سے واپس لوٹ آیا، اس ملاقات میں کیا بات ہوئی اور کیا طے کیا گیا اس کا باضابطہ طور پر سامنے آنا تو مشکل ہے لیکن معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک اعلی سعودی عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ ملاقات میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات سے زیادہ زور ایران سے نمٹنے پر رہا، ایران کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے پر غور کیا گیا ،اس ملاقات کے تناظر میں اسرائیل آرمی ریڈیو چینل نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا کہ ایک نیا اتحاد تشکیل پا رہا ہے جس میں اسرائیل، امریکا اور تمام ایسے ممالک شامل ہیں جو ایران کی شدت پسندی کے مخالف ہیں، یہ تمام قرائین ثابت کرتے ہیں کہ ملاقات نہ صرف ہوئی ہے بلکہ اس کا اصل مقصد ایران مخالف اتحاد کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی طے کرنا تھا،اس اچانک ملاقات کے بارے میں میڈیا بہت کچھ تبصرے کررہا ہے لیکن حقائق یہ ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے دور اقتدار کے خاتمے سے پہلے عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیا ن تعلقات کے قیام کے اپنے منصوبے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف ان تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے جو ایا کے خلاف امریکی کیمپ میں ہیں ، امریکی صدر اسی خوف کو ابھار کر عربوں کو اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر تیار کرتے رہے،بوریا بستر سمیٹنے میں مصروف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عربوں کو کیا پٹی پڑھائی اور نیتن یاہو نے کیا خواب دکھائے کہ اچانک انہیں صہیونی اسرائیلی چچا زاد بھائی نظر آنے لگے‘ کسی کو مظلوم فلسطین یاد رہا نہ ستم رسیدہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم، عرب ممالک خوشی خوشی آج امریکی فریب کا شکار ہوکر اسرائیل سے تعلق تو جوڑ رہے ہیں لیکن انہیں سابق عرب حکمرانوں کے انجام پر بھی نظر ڈال لینا چاہئے جو امریکا کی آنکھ کا تارا تھے، حکمرانی کا 40 سالہ تجربہ رکھنے اور امریکا و یورپ کی چالبازیوں سے واقف ہونے کے باوجود معمر قذافی فریب میں چکنی چپڑی آگئے، ایٹمی پروگرام رول بیک کیا، لیبارٹریوں میں پڑا تحقیقی سازو سامان جہازوں میں بھرا اور امریکا بھیج دیا،قذافی نے بھی ایران کے رضا شاہ پہلوی کا انجام یاد رکھا نہ صدام حسین کے حشر سے عبرت حاصل کی اور پھر دنیا نے دیکھا چند برسوں میں لیبیا عراق کی طرح کھنڈرات کا ڈھیر نظر آنے لگا‘ خوشحال اور خود کفیل لیبیا عدم استحکام اور معاشی پسماندگی کا نمونہ بن گیا، صدام نے امریکا کیلئے جوہوسکتا وہ کیا اور یہی امریکا انہیں انجام تک پہنچا کر قابل فخر کارنامہ انجام دینے والا ٹہرایا گیا،عرب امارات اور بحرین سے پہلے اردن،مصر اور ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کیا لیکن اسرائیل کو تسلیم کرنے والا کوئی ملک یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ اُنہیں کیا سیاسی‘ معاشی اور اقتصادی فائدہ پہنچا،اب سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرکے امریکا کو تو شائد خوش کرلے مگر خود کو عالم اسلام کی قیادت سے معزول سمجھے اور غالب امکان یہ ہے کہ شائد امریکاکی یہودی لابی یہ معرکہ سر کرنے کے بعد مضبوط و مستحکم سعودی حکومت کو صدام حسین اور قذافی کے انجام سے دوچار کرنے میں آسانی محسوس کرے کیونکہ اپنے مرکز سے کٹ کر‘ کوئی قوم اور ریاست اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتی ، یہ صدیوں کا تجربہ بھی ہے اور تاریخ کا چشم کشا سبق بھی۔ |


































