Fri Oct 16, 2026

یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار صدارتی محل پر یمنی فوج کا میزائل حملہ، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کے لیے خطرناک ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نیتن یاہو کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ناوے پلے سعودی ایئرپورٹس پر یمنی حملوں میں 19 افراد ہلاک، 364 زخمی آذربائیجان میں اجلاس، اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران 12 ممالک کا واک آؤٹ پشاور میں المناک سانحہ، اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ

روزانہ کی خبریں

جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے دی تھی، رپورٹ

امریکہ نے جمال خاشقجی قتل کیس کی خفیہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری سعودی ولی عہد محم دبن سلمان نے دی تھی۔ خبررساں ادارے روئٹرز نے ذرائع سے خبردی ہے کہ امریکہ نے سینئر سعودی انٹیلی جنس حکام سمیت 70 سعودی شہریوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر پاپندیاں عائد نہیں کرے گا۔ پابندی کا شکار حکام امریکہ کا سفر نہیں کرسکیں گے اور ان کے امریکہ میں موجود اثاثے بھی ضبط کر دیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ 23 اکتوبر 2018 کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قتل کیا گیا تھا اور ان کی لاش کے ٹکڑے مبینہ طور پر سعودی قونصل جنرل کے گھر سے برآمد ہوئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صحافی کی لاش کے ٹکڑے سعودی قونصل جنرل کے گھر کے باغ میں دفن کیے گئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمال خاشقجی کا جسم کئی ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ان کا چہرہ مسخ کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے سعودی صحافی خا شقجی دو اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کی گمشدگی کے کچھ دن بعد ترکی کا موقف سامنے آیا تھا کہ خاشقجی کو قتل کیا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular