ایران نے شہید قاسم سلیمانی کی تدفین کے فوری بعد عراق میں امریکی اڈوں پرحملے کرکے امریکا کو واضح پیغام دے دیا، عالمی میڈیا اس حملے کو انتقام قرار دے رہا ہے لیکن ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے واشگاف الفاظ میں واضح کردیا کہ یہ بدلہ نہیں صرف تھپڑ تھا جو امریکا کے منہ پر جڑا ہے،خطے سے امریکی فوج کا انخلا اصل انتقام ہوگا، ولی امر مسلمین نے اپنے خطاب میں جو اشارے دیئے ہیں، اْس سے واضح ہوتا ہے کہ مزاحمتی محاذ خطے میں امریکا کی فوجی موجودگی کو زیادہ دیر برداشت کرنے کوتیار نہیں، خطے میں امریکی اڈے علاقائی ممالک اور عوام کیلئے ایسے بوجھ میں تبدیل ہوگئے ہیں جس کو زیادہ عرصے تک برداشت کرنا ناممکن نظر آرہا ہے، ایران نے جب امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے تو لگ رہا تھا کہ خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک جائیں گے،اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد امریکابھی اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنائے گا جو ایک خطرناک جنگ کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا، لیکن بالکل توقع کے برخلاف وہ سب کچھ نہیں ہوا، جس سے دنیا ڈری ہوئی تھی،امریکی صدر ٹرمپ اپنے رفقا کے ساتھ نیوز کانفرنس میں پہنچے تو ان کے چہرے کی اڑی رنگت بہت کچھ کہہ گئی،ٹرمپ نے سب ٹھیک ہے کہا لیکن ان کے الفاظ انکی باڈی لینگویج کا ساتھ نہیں دے رہے تھے، ان کا چہرہ کسی ہارے ہوئے کا پتہ دے رہا تھااور لکھا ہوا بیان پڑھ کر صحافیوں کے سوالات کا سامنا کئے بغیر چلتے بنے، نہ ایران کے 52مقامات تباہ کرنے کی دھمکی پر عملدرآمد کی بات کی اور نہ ہی کسی اور جارحانہ اقدامات کا اعلان کیا، سخت پابندیوں کا اعلان کرکے چلتے بنے، یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ ایران امریکا کو جو پیغام دینا چاہتا تھا وہ اس نے بہت اچھی طرح سمجھ لیا ہے یہ اور بات ہے کہ وہ اسے ماننے پر آمادہ نہیں،ٹرمپ لاکھ کہیں کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اتنا تو طے ہے کہ ایران نے امریکا کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملا دیا اور70 سال کے اس طلسم کو توڑ دیا، جو امریکا نے اپنی طاقت کا بنایا تھا کہ اس پر کوئی حملہ نہیں کرسکتا، دوسری جنگ عظیم میں امریکی ریاست ہوائی کے پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کے بعد یہ پہلا حملہ ہے، جو کسی ملک نے امریکی چھاؤنی پر کیا ہو، یہ اس بات کا واضح اعلان تھا کہ ہم ہرگز خاموش تماشائی نہیں بنے رہیں گے، اگر ہم پر حملہ ہوا تو بھرپور انداز میں جواب دیں گے اور یہی پیغام تھا کہ امریکا نے کچھ نہ ہونے کا تاثر دے کر پیچھے ہٹنے میں ہی عافیت جانی،لیکن امریکا کا صرف پیچھے ہٹنا کافی نہیں، اسے خطے سے ہر صورت نکلنا ہوگا،جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکا کا خطے میں قیام ناممکن ہو چکا ہے، امریکا نے قاسم سلیمانی کو شہید نہیں کیا بلکہ اپنے مفادات کا سر قلم کیا ہے، قاسم سلیمانی کی شہادت نے جہاں امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کیا ہے، وہیں امریکا کیلئے خطرناک مستقبل کی بنیاد بھی رکھ دی ہے اور شائد یہی وہ سخت انتقام ہے جس کا ولی امر مسلمین نے اشارہ دیا تھا۔


































