ٹرمپ کے امریکا اور اوباما کے امریکا میں کوئی فرق نہیں، دشمن پر ہرگز اعتماد نہ کیا جائے،یورپی ممالک نے ایٹمی معاہدہ پر دوغلے پن اور منافقت کا مظاہرہ کیا
جنرل قاسم سلیمانی نے شہادت کے بعد بھی عالمی سامراج کو شکست دی، سلیمانی کے قاتلو ں اور قتل کا حکم دینے والوں کو اپنے کئے کی سزا بھگتنا ہوگی، شہید کی برسی کے لیے قائم کمیٹی کے ارکان اور شہید کے اہل خانہ سے گفتگو
تہران (نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے جانے کے بعد بھی امریکا کی ایران دشمنی ختم نہیں ہوگی،یہ دشمنی صرف ٹرمپ کے دور حکومت میں ہی نہیں رہی یہ سلسلہ سابق صدر اوباما کے دور میں بھی جاری رہااور انھوں نے بھی ایرانی عوام کے خلاف کام کیا، لہٰذا صدر ٹرمپ کے بعد بھی امریکا کی ایران دشمنی ختم نہیں ہوگی، شہید کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کے لیے قائم کمیٹی کے ارکان اور شہید کے اہل خانہ سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو ایک تاریخی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شہادت کے بعد ایرانی قوم اور امت مسلمہ کے ہیرو میں تبدیل ہوگئے، وہ عوامی شخصیت کے مالک تھے لہذا ان کی یاد بھی عوامی سطح پر منائی جانا چاہیے اور اس کےلئے پوری عوامی گنجائشوں اور ثقافتی کوششوں اور جدت ترازی سے کام لینے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ شہید جنرل قاسم سلیمانی کے قاتلو ں اور قتل کا حکم دینے والوں کو اپنے کئے کی سزا بھگتنا ہوگی اور جب بھی ممکن ہوا انتقام ہر حال میں لیا جائے گا اور یہ حتمی فیصلہ ہے،آپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو ایرانی عوام اور امت مسلمہ کا عظیم ہیرو قرار دیتے ہوئے کہاکہ قاسم سلیمانی نے اپنی زندگی میں بھی عالمی سامراج کو شکست دی اور شہادت کے بعد بھی اسے شکست سے دوچار کیا ، عراق اور ایران میں شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے بے مثال اور ناقابل فراموش جلوس جنازہ اور شہدا کی یاد میں ہونے والے اجتماعات نے سامراجی محاذ کے سافٹ وار جرنیلوں کو حیران کر دیا اور امریکیوں کے منہ پر پہلا زور دار طمانچہ رسید کیا،انہوںنے عین الاسد کی امریکی فوجی چھاو ¿نی پر میزائیل حملوں کے ذریعے دوسرے طمانچے کا ذکر کر تے ہوئے کہاکہ سخت انتقام سے مراد عالمی سامراج کی ظاہری طاقت پر غلبہ پانا ہے جس کے لیے انقلابی جوانوں اور مومن دانشوروں کے عزم کی جبکہ علاقے سے امریکیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے قوموں کے عزم و ارادے اور استقامتی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے،انہوں نے ایک بار پھر اغیار پر اعتماد نہ کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ میرا قطعی مشورہ ہے کہ دشمن پر ہرگز اعتماد نہ کیا جائے ، ٹرمپ کے امریکا اور اوباما کے امریکا میں کوئی فرق نہیں ، امریکا کی ایران دشمنی صرف ٹرمپ سے مختص نہیں جو اس کے چلے جانے سے ختم ہوجائے گی،انہوں نے یورپی ملکوں کو ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہاکہ تین یورپی ملکوں (برطانیہ، فرانس، جرمنی) نے بھی ایٹمی معاہدے کے حوالے سے انتہائی بے عملی، لیت و لعل، دوغلے پن اور منافقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- امریکہ
- امریکی دشمنی ٹرمپ تک محدودنہیں ، نہ اس کے جانے…


































