
غرب اردن کو ضم کرنے کاکام یکم جولائی سے شروع ہوگا، انضمام کیلئے امن معاہدے کے بجائے اسرائیلی وزیراعظم کی تجویز پر عمل کیا جائے،امریکی صدر
یہ فلسطینیوں کیلئے بے مثال اور بھر پور فائدہ اٹھانے کا موقع ہے،امریکی محکمہ خارجہ، مشرق وسطیٰ میں ’دو ریاستی حل‘ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گا،فلسطین
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام کا گرین سگنل دے دیا، مخلوط حکومت کی تشکیل کیلئے سمجھوتے کے تحت اسرائیلی کابینہ صدر ٹرمپ کے اس منصوبہ اور یہودی بستیوں سمیت غرب اردن کے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے عمل کا آغازیکم جولائی سے کرسکتی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصفیے کیلئے پیش کیے گئے اپنے امن معاہدے پر عمل در آمد کا عندیہ دیا ہے،انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے کے الحاق کیلئے امن معاہدے کے بجائے اسرائیلی وزیراعظم کی تجویز پر عمل کیا جائے، وہ اس حوالے سے فلسطینی قیادت سے بھی بات چیت کریں گے تاکہ مشرق وسطیٰ کے اس اہم مسئلے کو حل کرلیا جائے جبکہ محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کی خود مختاری سے متعلق اقدامات اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قوانین لاگوکرنے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہے، اسرائیل جو بھی اقدامات کرے گا اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کیلئے وژن کے مطابق فلسطینیوں سے مذاکرات بھی شامل ہوں گے، یہ فلسطینیوں کیلئے بے مثال اور بھر پور فائدہ اٹھانے کا موقع ہے،اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیونے کہاتھا کہ امریکا فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی خیال نہیں کرتا ہے، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نیاقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی کنارے پر الحاق اور گولان پہاڑی پر قبضے کو عالمی قوتوں سے تسلیم کرانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا،انہوں نے کہا کہ وہ پْر اعتماد ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کو اس انتخابی وعدے کو پورا کرنے دیں گے، اتحادی حکومت میں شامل گرین اینڈ بلیو پارٹی کے سربراہ بینی گینز کا مغربی کنارے کے انضمام کے حوالے سے کہنا ہے کہ مغربی کنارے سے متعلق واشنگٹن کی یقین دہانی کو تسلیم کرنے سے قبل اسرائیل کی کابینہ اس پر غور کرے گی،جبکہ فلسطینی قیادت نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی سے مشرق وسطیٰ میں ’دو ریاستی حل‘ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گا، حماس کے بیرون ملک شعبہ اطلاعات کے انچارج رافت مرہ نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی علاقوں بالخصوص غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی امریکی حمایت بین الاقوامی قوانین کی کھلی توہین ہے۔


































