Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

امام حسین ؑ کا ہدف اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں

آیت اللہ سید علی خامنہ ای

کربلا کا خورشید لازوال
اگرچہ محرم اورکربلا اور اس کے عظیم نتائج کے بارے میں بہت زیادہ قیمتی گفتگو کی گئی ہے لیکن زمانہ جتنا جتنا آگے بڑھتا رہتا ہے کربلا کا خورشید منور کہ جسے خورشید شہادت اور غریبانہ و مظلومانہ جہاد کے خورشید سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور جسے حسین ابن علی ؑ اور ان کے اصحاب باوفا نے روشنی بخشی ہے ، پہلے سے زیادہ آشکار ہوتا جاتا ہے اور کربلا کی برکتیں اور فوائد پہلے سے زیادہ جلوہ افروز ہوتے رہتے ہیں۔ جس دن یہ واقعہ رونما ہوا اس دن سے لے کر آج تک اس واقعہ کے بنیادی اثرات بتدریج آشکار ہوتے جارہے ہیں۔ اسی زمانے میں کچھ لوگوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے ذمے کچھ وظائف عائد ہوتے ہیں : قیام توابین اور بنی ہاشم و بنی الحسن کے طولانی مقابلے کے واقعات سامنے آئے، یہاں تک کہ بنو امیہ کے خلاف چلائی جانے والی بنو عباس کی تحریک دوسری صدی ہجری کے وسط میں چلائی گئی اور اس تحریک نے عالم اسلام میں خصوصاً مشرقی ایران و خراسان وغیرہ کی طرف اپنے مبلغین بھیجے اور یوں انہوں نے بنو امیہ کی نسل پرست اور ظالم و متکبر حکومت کے قلع قمع کے لئے زمین ہموار کی، بالآخر بنو عباس کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ بنو امیہ کے خلاف بنو عباس کی تحریک امام حسین ؑ کے نام اور ان کی مظلومیت کے نام سے شروع کی گئی، آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو مشاہدہ کریں گے کہ جب بنو عباس کے مبلغین عالم اسلام کے گوشہ و کنار میں گئے تو انہوں نے حسین ابن علیؑ کے خون، ان کی مظلومیت و شہادت ، فرزند پیغمبر(ص) کے خون کے انتقام اور جگر گوشہ فاطمہ زہرا (س) کے سفاکانہ قتل کو بطور حربہ استعمال کیا تاکہ عوام میں اپنی تبلیغ و پیغام کو مو ¿ثر بناسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ان کی بات قبول کی۔
یہ سب کربلا کے اثرات اور نتائج ہیں اور پوری تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ جو کچھ ہمارے زمانے میں وقوع پذیر ہوا وہ ان سب سے زیادہ تھا، ہمارے زمانے میں ظلم و کفر پورے عالم پر مسلط ہے اور قانون کی خلاف ورزی، عدل و انصاف کی پائمالی اور ظلم و ستم ایک قانون کی شکل میں بین الاقوامی سطح پر رائج ہے۔
معرفت کربلا ، تعلیمات
اسلامی کی اوج و بلندی
اسلامی تعلیمات اوراقدار کا بہترین خزانہ یہاں ہے اور ان اقدار و تعلیمات کی اوج و بلندی، معرفت کربلا ہے لہٰذا اس کی قدر کرنی چاہیے اور ہماری خواہش ہے کہ ہم ان تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہ امام حسینؑ ہی ہیں جو دنیا کو نجات دے سکتے ہیں ، صرف شرط یہ ہے کہ ہم کربلا کے چہرے اور اس کی تعلیمات کو تحریف سے مسخ نہ کریں۔ آپ اس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ تحریفی مفاہیم، خرافات اور بے منطق کام، لوگوں کے چشم و قلب کو سید الشہداءؑ کے چہرہ پر نور سے دور کردیں، ہمیں ان تحریفات اور خرافات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
میری مراد صرف دو جملے ہیں، ایک یہ کہ خود واقعہ کربلا اور سید الشہداءؑ کی تحریک، منبر پر فضائل و مصائب بیان ہونے کی شکل میں اسی قدیم وروایتی طور پر باقی رہے یعنی شب عاشورا اور صبح و روز عاشورا کے واقعات کو بیان کیا جائے۔ عام نوعیت کے حادثات وواقعات حتیٰ بڑے بڑے واقعات، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تاثیر کھو بیٹھے ہیں لیکن واقعہ کربلا اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ اسی منبر کی برکت سے آج تک باقی ہے ، البتہ کربلا کے واقعات کو مستند طور پر بیان کرنا چاہیے۔ جیسا کہ مقاتل کی کتابوں مثلاً ابن طاﺅس کے مقتل ”لہوف“ اور شیخ مفید کی کتاب ”ارشاد“ میں بیان کیا گیا ہے ، نہ کہ اپنی طرف سے جعلی، من گھڑت اور عقل و منطق سے دور(اور اہل بیت ؑ کی شان و منزلت کو کم کرنے والی) باتوں کے ذریعہ سے۔ مجلس اور حدیث و خطابت کو حقیقی معنی میں حدیث و خطابت ہونا چاہیے۔ خطابت ، نوحہ خوانی ، سلام و مرثیہ خوانی ، ذکر مصائب اور ماتم کے وقت کربلا کے واقعات اور سید الشہداءؑ کے ہدف کو بیان کرنا چاہیے۔
امام حسین ؑ کے اہداف کا بیان
امام ؑ کا ہدف، وہی خلقتِ بشر کا ہدف ہے یعنی ملاقاتِ خدا۔
”اے انسان ! تجھے اپنے پروردگار کی طرف سختیوں کے ساتھ سفر کرنا ہے اس کے بعد تو اس سے ملاقات کرے گا۔“
ان تمام زحمتوں اور سختیوں کا ہدف خدا سے ملاقات ہے۔ جو بھی ملاقات خدا کے لئے تیار ہے اور اس نے لقاءاللہ کے لئے اپنے نفس کو آمادہ کرلیا ہے،تو اسے چاہیے کہ وہ ہمارے ساتھ چلے ،اسے حسین ابن علی ؑ کے ساتھ قدم بقدم ہونا چاہیے اور ایسا شخص گھر میں نہیں بیٹھ سکتا۔ ان حالات میں دنیا اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا اور نہ ہی راہ حسین ابن علی ؑ سے غافل ہوا جاسکتا ہے لہٰذا ہمیں ہر صورت میں امام حسین ؑ کے ساتھ ہمراہ ہونا پڑے۔ امام عالی مقام ؑ کے ساتھ یہ قدم اٹھانا اور ان کے ہمراہ ہونا دراصل ہمارے اپنے اندر کی دنیا یعنی نفس اور تہذیب نفس سے شروع ہوتا ہے اور اس کا دائرہ معاشرے اور دنیا تک پھیل جاتا ہے لہٰذا ان تمام باتوں کو بیان کرنا چاہیے۔ یہ سب سید الشہداءؑ کے اہداف اور حسینی تحریک کا خلاصہ ہے۔
فداکاری اور بصیرت ،
دفاع دین کے لازمی اصول
کربلا اپنے دامن میں بہت سے پیغاموں اور درسوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ کربلا کا درس یہ ہے کہ دین کی حفاظت کے لئے فداکاری سے کام لینا چاہیے اور راہ قرآن میں کسی چیز کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ کربلا ہمیں درس دیتی ہے کہ حق و باطل کے میدان نبرد میں سب کے سب ، چھوٹے بڑے، مردوزن ، پیر وجوان ، باشرف و حقیر، امام اور رعایا سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں اور یہ جان لیں کہ دشمن اپنی تمام تر ظاہری طاقت و اسلحے کے باوجود اندر سے بہت کمزور ہے۔ جیسا کہ بنو امیہ کے محاذ نے ایسران کربلا کے قافلے کے ہاتھوں کوفہ، شام اور مدینے میں نقصان اٹھایا اور شکست و نابودی اس کا مقدر بنی۔ کربلا ہمیں درس دیتی ہے کہ دفاعِ دین کے میدان میں انسان کے لئے سب سے زیادہ اہم اور ضروری چیز”لازمی بصیرت“ ہے۔ بے بصیرت افراد دھوکہ و فریب کا شکار ہو کر باطل طاقتوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور انہیں خود بھی اس بات کا شعور نہیں ہوتا، جیسا کہ ابن زیاد کے ساتھ بہت سے ایسے افراد تھے کہ جو فاسق و فاجر نہیں تھے لیکن وہ بصیرت سے خالی تھے۔ یہ سب کربلا کے درس ہیں ، البتہ یہی تمام درس کافی ہیں کہ ایک قوم کو ذلت کی پستیوں سے نکال کر عزت کی بلندیوں تک پہنچا دیں۔ ان درسوں میں اتنی قدرت ہے کہ یہ کفر و استکبار کو شکست سے دو چار کر سکتے ہیں کیونکہ یہ سب تعمیرزندگی کے درس ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular