اسرائیل نے ایک بار پھر فلسطینیوں پر قیامت ڈھادی اور بیت المقدس سے شروع کئے گئےدرندگی کے مظاہرے کو غزہ تک پھیلادیا گیا، غزہ میں درجنوں افراد کی شہادت اورزخمی ہونے کے باوجود فلسطینی ڈٹے ہوئے ہیں وہ گذشتہ73 برسوں سے اسرائیلی جارحیت کے مقابل مقاومت دکھا رہے ہیں اور پوری امت مسلمہ ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف زبانی ہی سہی ان کے ہمراہ کھڑی ہے، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین تازہ جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا، جب اسرائیل نے رمضان المبارک کے آغاز میں ہی بیت المقدس میں فلسطینیوں کو روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کردیں، بیت المقدس میں نمازیوں پر تشدد کیا گیا، اسرائیلی سیکورٹی اداروں نے فلسطینی نمازیوں پر مسجد اقصیٰ میں حملہ کیا اور جس میں کئی ایک فلسطینی شدید زخمی ہوئے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس طرح کی جھڑپیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں جس کا آغاز اکثر اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ہی کیا جاتا ہے۔ اسرائیل ایسے واقعات کو تزویراتی حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی اور وحشیانہ جارحیت اسرائیل کے سیاسی بحران سے جڑی ہوئی ہے، اسرائیل میں دو برسوں میں 4 الیکشن کے باوجود اب تک کوئی حکومت قائم نہیں ہوسکی، بنیامن نتن یاہو کی لیکود پارٹی تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت سازی میں ناکام رہی اور اب اسرائیلی وزیراعظم سیاسی صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کیلئے یہ خونی کھیل کھیل رہے ہیں، نتن یاہو کی حکومت مسلمانوں پر سختیاں کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے، تاکہ پانچویں انتخاب میں اکثریت حاصل ہوسکے، صیہونی حکام نے ماضی کے تجربات سے سبق نہیں سیکھا ہے اور وہ اب بھی سیاسی بحران سے باہر نکلنے کے لئے انتہا پسند طریقے اختیار کرنے کی کوشش میں ہیں، لیکن اس بار مقاومت کے پوری شدت سے دئے گئے جواب نے ان کے ہوش اڑا دئے ہیں پہلی بار غزہ سے داغے گئے میزائل تل ابیب میں گرے اور تباہی مچائی تو صیہونی حکام بوکھلا اٹھے، یہ ردعمل ان کی توقع سے زیادہ شدید تھا، یہ بات طے ہے کہ اسرائیل ایسی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں کہ ہر روز اس کے دو چار شہری بھی مریں، اسرائیلی اسلحہ کا سحر بھی ٹوٹ رہا ہے، راکٹ حملے اسرائیلی دفاعی نظام کو بے نقاب کر رہے ہیں، دنیا دیکھ رہی ہے کہ چھوٹے چھوٹے راکٹ تل ابیب تک پہنچ رہے ہیں، اگر یہ جدید ترقی یافتہ میزائل ہوتے تو اسرائیل کی فوجی تنصیبات مٹی کا ڈھیر بن چکی ہوتیں، سارے صیہونی قائدین کو پتہ لگ گیا ہے کہ اب مقبوضہ یروشلم کا مغربی یہودی حصہ بھی اسلامی مقاومت کے راکٹوں کی زد پر ہے، 10مئی کا سورج اسی پیغام کے ساتھ فلسطین میں غروب ہوا کہ اب اسرائیل کسی بھی علاقے کو مستثنا نہ سمجھے، شمال، جنوب، مرکز، کچھ بھی محفوظ نہیں رہا، سب سے بڑھ کر یہ کہ فلسطینی راکٹوں نے صیہونیوں کو بیت المقدس پر ناجائز قبضے کا جشن یروشلم ڈے نہیں منانے دیا، یہ تحریک مقاومت کی بڑی کامیابی ہے بدترین محاصرہ کے باوجود 5 منٹ میں تل ابیب پر 137راکٹ داغ کر اسرائیل کو واضح پیغام دے دیا کہ وہ اب ناقابل تسخیر نہیں رہا۔ReplyReply allForward