
تل ابیب : صیہونی حکومت میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کردی۔ غزہ جنگ کو طول دینے کی نیتن یاہو کی پالیسی کی وجہ سے جنگی کابینہ میں پہلے ہی اختلافات پائے جاتے تھے، بنی گانٹز کے استعفیٰ کے بعد آئزن کوٹ بھی کابینہ سےالگ ہوگئے۔ دو وزرا کے استعفیٰ کے بعد نتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی نئی جنگی کابینہ تشکیل دینے پر زوردے رہے ہیں۔ اتماربن گوئر اور بزلیل اسمورٹچ نےنیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود جنگ جاری رکھیں۔ نیتن یاہو کا اپنے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے ساتھ اختلاف بھی شدید تر ہو چکا ہے اور وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر دفاع کو بے شرم اور احمق جیسے القابات سے نوازا ہے۔ نیتن یاہو نے جنگی کابینہ میں انتہا پسند جماعتوں کو رکنیت نہیں دی تھی۔ مگر اب ان کی طرف سے دباؤ ہو سکتا ہے۔ اگر نیتن یاہو بین گویر یا اسموٹریچ کو جنگی کابینہ میں نہیں لیتے ہیں تو اتحاد کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور اگر لیتے ہیں تو بین الاقوامی سطح سے سخت رد عمل کا خدشہ ہے۔


































