
اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہناہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچ قوم پرستوں اور سندھی قوم پرستوں سے تو مذاکرات کر سکتے ہیں مگر ملک کے ڈاکوؤں کےساتھ بات چیت پر تیار نہیں۔ چوروں سے ڈیل کرلیں تو معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے، عوام سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حالات مشکل ہیں جتنی دیر یہ حکومت رہے گی مزید مشکل ہوگی، قوم فیصلہ کرلے کہ قرض اتارنے ہیں تو قوم یہ کرسکتی ہے، یہ کیسی لیڈر شپ ہے جن کا اپنا پیسہ باہر اور لوگوں سے کہیں کہ پیسہ ملک لائیں، ان کے ہوتے ہوئے باہر سے کوئی سرمایہ نہیں آنا‘صرف ایک راستہ ہے کہ نیا الیکشن کمیشن بنا کر انتخابات کرائے جائیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ صرف ہماری حکومت ہی نہیں ہٹائی گئی پورا پروگرام بنایا گیا کہ ہمیں اتنا دبایا جائے کہ اٹھ نہ سکیں، لیکن لوگ بجائے خوفزدہ ہونے کے ایک قوم بننا شروع ہوئی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں ملک ترقی کر رہا تھا‘سوال ہے کہ جب ملک ٹھیک چل رہا تھا تو سازش کی اجازت کیوں دی گئی؟۔ ہم 8 مرتبہ الیکشن کمیشن گئے 8 دفعہ ہماری درخواستیں مسترد کی گئیں، 8 مرتبہ الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت گئے اور ہماری درخواستیں منظور ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ای وی ایم لانے کی کوشش کی تو چیف الیکشن کمشنر نے مخالف کی اور ای وی ایم نہیں لانے دی۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں یہ خزانہ خالی چھوڑ کرگئے تھے، مجبوراً ہمیں دوست ممالک کے پاس جانا پڑا، لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ان سے بات کیوں نہیں کرتے، ہم سب سے بات کر سکتے ہیں لیکن چوروں سے ڈیل کرلیں تو معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔


































